.

پاکستانی طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے

حکومت اور فوج امن عمل میں سنجیدہ نہیں: ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ درپردہ امن مذاکرات معطل کردیے ہیں اور ان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت اور فوج امن عمل میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے سوموار کو ایک بیان میں حکام کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کی اطلاع دی ہے اور حکومت اور پاک آرمی پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ دونوں امن بات چیت میں سنجیدگی نہیں ہیں۔

ترجمان نے پاکستان کے ایک انگریزی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ''وہ غیراسلامی جمہوری نظام میں شرکت سے گریز کریں کیونکہ اس سے اسلام دشمنوں کے مفادات ہی کی خدمت ہوگی''۔

احسان اللہ احسان نے ٹی ٹی پی کی جانب سے لوگوں کو یہ مشورہ دیا کہ ''وہ خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی ،متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے اجتماعات سے دور رہیں''۔

کالعدم تحریک طالبان سے وابستہ جنگجو ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے متعدد لیڈروں کو نشانہ بنا چکے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ تنظیم نے آیندہ انتخابات سے قبل حکمراں جماعت پی پی پی اور اس کی ماضی کی اتحادی ایم کیو ایم کے جلسے جلوسوں سے لوگوں کو دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے 3 فروری کو ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ان کی تنظیم حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مشروط طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ طالبان ترجمان نے مذاکرات کے لیے یہ شرط عاید کی تھی کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے سربراہ میاں نواز شریف ،جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن حکومت اور فوج کے ساتھ ان کے مذاکرات میں ضامن بنیں۔

اس کے ردعمل میں سبکدوش ہونے والی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پر زوردیا تھا کہ وہ امن مذاکرات سے قبل تیس دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کرے۔وزیرداخلہ عبدالرحمان ملک نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ''سب سے پہلے جنگ بندی ہونی چاہیے۔طالبان آگے بڑھیں ،ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کریں اور پھران سے مذاکرات ہوں گے''۔