.

قومی اسمبلی کے عام انتخابات 11 مئی کو کرانے کا اعلان

الیکشن کمیشن 23 مارچ سے قبل انتخابی شیڈول جاری کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے 11مئی کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ صدر کو حکومت کی جانب سے انتخابات کے اعلان کے لیے سمری موصول ہوئی تھی اور انھوں نے قومی اسمبلی کے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے 11مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی 16 مارچ کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہوگئی تھی اور یہ پہلی اسمبلی ہے جس نے اپنی مدت پوری کی ہے۔ الیکشن کمیشن پاکستان کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے بتایا ہے کہ کمیشن 23 مارچ سے قبل عام انتخابات کے لیے شیڈول کا اعلان کرے گا۔

ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے بھی انتخابات ہوں گے لیکن ان کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اگلے روز وزیراعظم راجا پرویز اشرف کے ساتھ چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے اپنی آخری ملاقات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز کرانے سے اتفاق کیا تھا لیکن صدارتی بیان میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

سبکدوش ہونے والے وزیراعظم راجاپرویز اشرف اور قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان کے درمیان منگل تک عبوری وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا جس کے بعد قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا نے آئین کے تحت آٹھ ارکان پارلیمان پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی ہے جس میں دونوں طرف سے چار چار ارکان شامل ہیں۔یہ کمیٹی جمعہ 22مارچ تک نگران وزیراعظم کا فیصلہ کرے گی۔اگر یہ کمیٹی اس میں ناکام رہتی ہے تو پھر یہ معاملہ الیکشن کمیشن پاکستان کو بھیج دیا جائے گا جو دوروز میں عبوری وزیراعظم کا فیصلہ کرے گا۔

پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے متفقہ طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور کو چئیرمین منتخب کیا ہے۔کمیٹی میں حکومت کی جانب سے غلام احمد بلور ،فاروق ایچ نائیک ،خورشید احمد شاہ اور چودھری شجاعت حسین جبکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے سردار مہتاب عباسی ،سردار یعقوب ناصر، پرویز رشید اور خواجہ سعد رفیق رکن ہیں۔

پی پی پی نے بنک دولت پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین اور ریٹائرڈ جج میر ہزار خان کھوسو اور پی ایم ایل این نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ناصر اسلم زاہد اور سندھی سیاست دان رسول بخش پلیجو کو عبوری وزیراعظم کے لیے نامزد کیا تھا۔ذرائع کے مطابق جسٹس ناصر اسلم زاہد اور ڈاکٹر عشرت حسین میں سے کسی ایک پر نگران وزیراعظم کے لیے اتفاق رائے کا امکان ہے۔