.

ملالہ یوسف زئی نے اسکول جانا شروع کر دیا

برمنگھم سکول میں نئے دوست بناوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بننے والی نوجوان پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے حملے کے بعد پہلی مرتبہ اسکول جوائن کر لیا ہے۔ اس موقع پر پندرہ برس کی ملالہ نے کہا کہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد دوران علاج دوبارہ اسکول جانے سے متعلق دیکھا گیا ان کا خواب آج پورا ہو گیا ہے۔

مزید یہ کہ اب وہ انگلینڈ میں رہتے ہوئے برمنگھم کے انڈیپنڈنٹ ایجبسٹن اسکول میں نئے دوست بنانے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ دنیا کی تمام لڑکیوں کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔ ملالہ نے مزید کہا کہ وہ پاکستان میں موجود اپنی ہم جماعت سہیلیوں کی کمی کو بہت زیادہ محسوس کریں گی۔

یاد رہے کہ ملالہ کودنیا کے معتبر ترین انعام نوبل پرائز کے لیے نامزد کرکے دنیا بھر میں طالباں کے خلاف مزاحمت کرنے والی ایک کم سن طالبہ کے طور پر ان کی قربانیوں اور جدو جہد کو تسلیم کیا گیا تھا۔

ناروے کے نوبل انسٹیٹوٹ کا کہنا تھا کہ اس فہرست میں نوبل انعام کے لیے ملالہ یوسف زئی کے نام کے علاوہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور وکی لیکس کو معلومات فراہم کرنے والے امریکی فوجی بریڈلی میننگ کا نام بھی شامل ہے۔ امن کے نوبل پرائز کے لیے ملالہ کا نام ناروے کے تین حکومتی ارکان نے تجویز کیا تھا۔

یاد رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس نومبر میں پاکستانی وادئ سوات میں ملالہ یوسف زئی کے سر میں گولی مار دی تھی۔ شدید زخمی ملالہ کو ابتدائی علاج کے بعد لندن منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ رواں برس فروری تک زیر علاج رہیں۔ اس دوران ان کے سر کی سرجری بھی کی گئی۔