.

پاکستانی طالبان کی مشرف کوقتل کرنے کی دھمکی

طالبان کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا: پرویز مشرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تحریک طالبان پاکستان نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے جو پہلے ہی اتوار کو وطن واپس آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آوروں کا ایک گروہ تیار کر لیا گیا ہے اور سابق صدر کو “قتل کرنے کے لیے خود کش حملہ آوروں کو منتخب کر کے ٹریننگ دی جا رہی ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ عدنان رشید کو خودکش حملہ آوروں کا سربراہ بنایا گیا ہے جنہوں اس سے قبل بھی پچھلے بار پرویز مشرف کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

یاد رہے کہ عدنان رشید پہلے پاکستان ایئر فورس میں ایک جونئیر ٹیکنیشین کے عہدے پر کام کرتے تھے۔

انہیں دسمبر 2003 میں صدر پرویز مشرف پر حملے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی لیکن 15 اپریل 2012ء کو وہ اپنے ساتھیوں سمیت بنو جیل سے فرار ہو گئے تھے۔

طالبان نے سابق صدر کی جانب سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شامل ہونے اور امریکہ کا حلیف بننے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا اور اسی کے بعد پاکستانی فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔

پرویز مشرف اتوار کو چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد دبئی سے پاکستان واپس لوٹ رہے ہیں اور انہوں نے 11 مئی کو ہونے والے انتخابات میں بھی حصہ لینے کے اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب پرویز مشرف نے کل پاکستان آنے کے اعلان کو دہراتے ہوئے کہا کہ میرے متعلق پاکستان نہ آنے کے دعوے غلط ثابت ہوں گے۔

دبئی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا دہشت گرد ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ ملک بچا کر رہیں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر وطن واپسی کےعزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ساری زندگی خطرات کا سامنا کیا اور کل ضرور پاکستان آؤں گا۔