.

سابق فوجی صدر مشرف کراچی پہنچ گئے

طالبان کی دھمکی کے پیش نظر جلسے کا مقام تبدیل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف تقریباً چار سال کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد اتوار کو کراچی پہنچ گئے۔

سابق صدر مشرف دوبئی سے ایک نجی ائئر لائن کے ذریعے مقامی وقت کے مطابق بارہ بج کر پچپن منٹ پر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے۔

ان کی پاکستان آمد کے بارے میں ذبردست تشہیری مہم تو چلائی گئی تھی مگر اس کے برعکس اس وقت ائیر پورٹ پر جماعت کے کارکن اور حمایتیوں کی تعداد اتنی نہیں جتنی توقع کی جا رہی تھی تاہم ابھی کارکنوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ کارکنوں کے مقابلے میں ائیر پورٹ پر سکیورٹی اہلکاروں اور میڈیا کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

ائیرپورٹ پر پولیس، رینجرز، ایئر پورٹ سکیورٹی فورس اور سادہ لباس میں سینکڑوں کی تعداد میں اہلکار موجود ہیں۔

جنرل ریٹائرڈ مشرف نے جہاز میں سوار ہونے کے بعد مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے۔’ اپنے گھر واپس جانے کے لیے جہاز میں سیٹ پر بیٹھ گیا ہوں۔ سب سے پہلے پاکستان۔‘

پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے مطابق کراچی میں مزار قائد پر جلسے کا اجازت نامہ منسوخ ہونے کے بعد وہ اب ائیر پورٹ پر جلسے سے خطاب کریں گے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان روانگی سے قبل دبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ کراچی میں انتظامیہ کو ان کی فکر ہے اور انہوں نے طالبان کی دھمکی کے پیش نظر جلسے کا مقام تبدیل کر دیا ہے۔

سابق صدر کے بقول اب وہ جس دنیا میں جا رہے ہیں وہاں بہت سارے مسائل موجود ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ ان مسائل کا مقابلہ کریں گے اور ان کے حل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

سابق صدر کی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے اور دبئی کے سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ سول کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد دبئی میں ان کی رہائش گاہ سے ائیر پورٹ روانگی کے وقت ان کے ساتھ تھی۔ اس کے علاوہ میڈیا کے نمائندوں کی کثیر تعداد ان کے ہمراہ ہے۔

خیال رہے کہ جنرل پرویز مشرف نے دو سال قبل اٹھارہ اگست دو ہزار آٹھ کو صدر پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور کچھ عرصہ پاکستان میں رہنے کے بعد نومبر سال دو ہزار آٹھ میں وہ بیرون ملک چلے گئے اور لندن میں رہائش پذیر تھے۔

دو دن قبل ہی سندھ ہائی کورٹ نے تین مقدمات میں سابق صدر مشرف کی حفاظتی ضمانتیں منظور کرلی ہیں۔

جنرل پرویز مشرف پر سابق وزیر اعظم اور بینظیر بھٹو کو مطلوبہ حفاظت فراہم نہ کرنے، بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کی سازش کرنے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت ساٹھ ججز کو حبس بے جاں میں رکھنے کا الزام ہے۔

اس سے پہلے سابق صدر نےکراچی آمد کے بعد اتوار کی شام پانچ بجے مزارِ قائد کے قریب گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ تاہم حکومت نے گذشتہ رات مزار قائد پر جلسے کا این او سی یعنی اجازت نامہ منسوخ کر دیا۔ کراچی کی انتظامیہ نے ہفتے کو رات گئے انہیں سکیورٹی خدشات کے باعث این او سی منسوخ کرنے کے بارے میں آگاہ کیا۔ اعلان کے مطابق پرویز مشرف کراچی ائیر پورٹ پر جلسے سے خطاب کریں گے۔

ترجمان نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چار دن پہلے اجازت نامہ دیا گیا تھا اور جب جلسہ گاہ پر بھاری اخراجات سے انتظامات مکمل کر لیے گئے تو اچانک این او سی منسوخ کر دیا گیا۔