.

اب معاشی دھماکے کریں گے: میاں نوازشریف کا جلسۂ عام سے خطاب

عوام آیندہ انتخابات میں وزیراعظم نہیں، پاکستان کو ووٹ دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ ہم نے گذشتہ دورحکومت میں ایٹمی دھماکے کیے تھے، اب معاشی دھماکے کریں گے اور ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے۔عوام آیندہ انتخابات میں وزیراعظم کو نہیں، پاکستان کو ووٹ دیں۔

وہ سوموار کوشمال مغربی شہر مانسہرہ میں جلسۂ عام سے خطاب کررہے تھے اور اس جلسے سے انھوں نے گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے اپنی مہم کا بھی آغاز کردیا ہے۔

میاں نوازشریف نے کہا کہ ''مجھے 10سال حکومت کرنے کا موقع ملتا تو ملک کی تقدیربدل دیتا۔اگرہزارہ صوبہ بنتا ہے تو مجھے بڑی خوشی ہوگی،یہاں صرف صوبہ ہی نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی میں ا نقلاب آنا چاہیے''۔

مسلم لیگ کے صدر نے کہا کہ ''مجھے جھوٹ بولنا نہیں آتا، اسی وجہ سے کئی سزائیں بھگتی ہیں، ہم پر جو مصیبت اور مشکل آئی اسے برداشت کیا، میں پیچھے نہیں ہٹا،ہمیشہ اپنی اصولی جگہ پرکھڑا رہا ہوں''۔

انھوں اپنی تقریرمیں وعدہ کیا کہ اگر وہ تیسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے تو لاہور سے کراچی تک بھی موٹروے بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ''مجھے اقتدار کا شوق نہیں،میں صرف اپنے ملک کو ترقی کرتا ہوا اور ملک کو خوشحال دیکھنا چاہتاہوں''۔واضح رہے کہ میاں نواز شریف نے اپنے پہلے اور دوسرے دور حکومت میں لاہور سے اسلام آباد اور پشاور تک موٹروے بنائی تھی۔

مانسہرہ اسٹیڈیم میں منعقدہ میاں نواز شریف کے جلسے میں ہزاروں افراد شریک تھے۔دو پولیس افسروں کا کہنا ہے کہ اسٹیڈیم میں تیس ہزار سے زیادہ افراد موجود تھے اوراسٹیج پر بلٹ پروف سکرین لگائی گئی تھی لیکن میاں نوازشریف نے اس کو ہٹانے کی ہدایت کی جس پر شرکاء نے ان کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔جلسہ گاہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات تھے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق میاں نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں برتری حاصل ہے اور وہ آیندہ عام انتخابات میں اکثریتی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئے گی۔تاہم ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر رائے عامہ کے جائزے کی اعتباریت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

حال ہی میں اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد سبکدوش ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت پر بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں ،اقربا پروری ،بدانتظامی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔اس حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت میں قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے کے متعدد الزامات سامنے آئے تھے، ملکی معیشت مزید قرضوں میں جھکڑی گئی ہے اور ملک میں لاقانونیت اور امن وامان کی صورت حال ابتر رہی ہے۔

میاں نواز شریف کی جماعت کو آیندہ انتخابات میں پی پی پی اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کی جماعت تحریک انصاف سے بھی سخت مقابلہ درپیش ہے اور عمران خان نے ہفتے کے روز مسلم لیگ کے سیاسی گڑھ لاہور میں بڑا عوامی جلسہ کرکے انھیں چیلنج کردیا ہے ۔

عمران خان اپنی تقریروں اور بیانات میں بھی پی پی پی کی قیادت کے بجائے میاں نوازشریف اور ان کے بھائی، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں حالانکہ ان کی پنجاب میں حکومت نے ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے ہیں اور اس کے مقابلے میں گذشتہ پانچ سال کے دوران باقی تین صوبوں میں دوسری جماعتوں کی حکومتوں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جارہے ہیں اور انھوں نے ایسا کوئی قابل فخر کارنامہ انجام نہیں دیا جس کی بنیاد پر وہ عوام میں سرخرو ہوسکیں۔