.

عام انتخابات 2013ء: سرکاری محکموں میں بھرتیوں پرعاید پابندی ختم

انتخابی شیڈول میں رد وبدل، امیدواروں کے لیے ضابطۂ اخلاق جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی ) نے 11مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں دو دن کی توسیع کردی ہے اور انتخابات میں حصہ لینے خواہش مند امیدوار 31مارچ تک اپنے کاغذات نامزدگی جمع کراسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے قبل سرکاری محکموں میں نئی بھرتیوں پر عاید پابندی بھی ختم کردی ہے اوراب مجاز حکام سرکاری محکموں میں نئے تقرر کرسکیں گے۔ کمیشن نے عام انتخابات کے انعقاد کے اعلان سے دو ماہ قبل سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر پابندی لگادی تھی لیکن اس کے اس فیصلے کے بعد سبکدوش ہونے والی پیپلز پارٹی کی حکومت سابقہ تاریخوں میں اپنی جماعت کے کارکنان کو تقرر نامے جاری کرتی رہی ہے لیکن ابھی تک ایسے تمام غیر قانونی تقرر منسوخ کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم الیکشن کمیشن نے مختلف ترقیاتی سکیموں کے لیے پہلے سے مختص فنڈز کو دوسرے منصوبوں پر لگانے پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ ای سی پی نے قومی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے انتخابی اخراجات کی حد پندرہ لاکھ روپے اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کے لیے اخراجات کی حد دس لاکھ روپے مقرر کی ہے اور امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اپنے نئے بنک کھاتے کھولیں۔ ان میں مقررہ رقم جمع کرائیں اور وہاں سے نکال کر خرچ کریں۔وہ ہفتہ وار بنیاد پر ریٹرننگ افسروں کو اپنے انتخابی اخراجات کی تفصیل بتانے کے پابند ہوں گے۔

جمعرات کوانتخابی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے لیے ضابطۂ اخلاق بھی جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت امیدواروں پر بڑی کار ریلیاں نکالنے پر پابندی ہوگی۔ان پر لاؤڈ اسپیکروں اور بڑے تشہیری بورڈز استعمال کرنے پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے۔البتہ لاؤڈ اسپیکر انتخابی جلسوں میں استعمال کیے جاسکیں گے۔کوئی امیدوار یا سیاسی جماعتیں سرکاری عمارتوں پر اپنے پرچم بھی نہیں لہرا سکیں گی۔

کمیشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان کا کہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کی درخواست پر کیا گیا ہے جبکہ امیدواروں کو کاغذات نامزدگی پُر کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں توسیع کے بعد باقی انتخابی شیڈول میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے۔اس کے تحت انتخابی عملہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پرتال یکم سے سات اپریل تک کرے گا۔

کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 10 اپریل تک دائر کی جا سکیں گی۔انتخابی امیدوار اور ان کے مخالفین کی اپیلوں کی سماعت ٹرائبیونل کریں گے اور16اپریل تک تمام اپیلیں نمٹا دی جائیں گی۔اس کے بعد انتخابات میں حصہ نہ لینے والے امیدوار 17 اپریل تک کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔

18اپریل کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوارں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے پولنگ ایک ہی روز 11مئی بروز ہفتہ کو ہوگی۔اس طرح امیدواروں کے پاس انتخابی مہم چلانے کے لیے بائیس دن کا وقت ہوگا۔

وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں پچاسی ہزار پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔تاہم ابھی وزارت داخلہ نے حساس علاقوں کا تعین نہیں کیا۔اسی ہفتے ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان سے وابستہ جنگجو صوبہ بلوچستان اور دوسرے علاقوں میں جنداللہ اور کالعدم لشکر جھنگوی سے مل کر انتخابات کے موقع دہشت گردی کی کارروائیاں کرسکتے ہیں۔