.

لیبیا میں تین پاکستانی نژاد برطانوی خواتین کی عصمت دری

بن غازی میں سرکاری ملیشیا کے ارکان کا خواتین پر والد کے سامنے جنسی تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں حکومت کی حامی ملیشیا کے ارکان نے تین پاکستانی نژاد برطانوی شہری خواتین کو اغوا کے بعد جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور ان کی عزت پامال کردی ہے۔

لیبیا کے ''شتر بے مہار'' مسلح افراد کے ہاتھوں اپنی عزت گنوانے والی پاکستانی خواتین غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے قافلے کے ساتھ لیبیا پہنچی تھیں اور وہاں سے مصر جانا چاہتی تھیں۔مصر میں داخلے میں ناکامی کے بعد وہ واپس برطانیہ جانا چاہتی تھیں لیکن انھیں لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں حکومت کی ملیشیا کے درندہ صفت مسلح افراد نے اغوا کر لیا اور اپنی ہوس پوری کرتے رہے۔

لیبیا کے نائب وزیراعظم عواد البراسی نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور اسپتال میں تینوں متاثرہ خواتین کی عیادت کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ انسانی ہمدردی کے تحت فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے جانے والی خواتین دو مردوں کے ساتھ سفر کررہی تھیں اور انھیں منگل کے روز بن غازی ائیرپورٹ کی جانب جاتے ہوئے پانچ نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

نائب وزیراعظم نے بتایا ہے کہ تینوں خواتین کی اسپتال میں حالت بہت ہی بری ہوچکی تھی۔ان میں سے دوسگی بہنیں ہیں۔ان کے والد بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ لیبی وحشیوں نے اس بدنصیب والد کے سامنے ہی ان کی عزت لوٹی تھی۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان خواتین کو بازیاب کیسے کرایا گیا ہے۔

انھوں نے فیس بُک پر اپنے صفحے پر بھی اس دل خراش واقعہ کی اطلاع دی ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔انھوں نے لیبیا کے الحرا ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں خواتین کی نفسیاتی طور پر بہت ہی بری حالت ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق لیبی حکام نے اس کیس میں گرفتاریاں کی ہیں۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے افراد کو گرفتاری کیا گیا ہے۔

برطانیہ سے ان تینوں خواتین کا امدادی قافلہ پچیس فروری کو زمینی راستے سے غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔مصر کے سرحدی محافظوں نے انھیں لیبیا سے اپنے ملک کے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے قافلے میں شامل افراد کئی روز تک دونوں ممالک کے سرحدی علاقے میں رکے رہے تھے۔منگل کو وہ واپس برطانیہ جانے کے لیے بن غازی کے ہوائی اڈے کی جانب جارہی تھیں کہ وہ مسلح افراد کے ہتھے چڑھ گئیں۔

ترکی کے انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے والے امدادی ادارے آئی ایچ ایچ سے تعلق رکھنے والے کارکن حسین اورچ نے بتایا ہے کہ یہ خواتین دس گاڑیوں پر مشتمل امدادی قافلے میں شامل تھیں اور ان گاڑیوں پر طبی سامان اور ادویہ وغیرہ لدی ہوئی تھیں۔

اس قافلے کو اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے ترکی کے بحری امدادی جہاز کے نام پر ماوی مارمرا کا نام دیا گیا تھا۔غزہ جانے والے فریڈم فلوٹیلا میں شامل اس بحری جہاز پر اسرائیلی حملے میں نو ترک رضاکار شہید ہوگئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ان خواتین اور ان کے ساتھ مرد رضاکاروں کی رہائی آئی ایچ ایچ کی کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔دونوں متاثرہ سگی بہنیں اور ان کے والد جمعہ کو واپس برطانیہ روانہ ہونے والے تھے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے لیبیا میں پاکستانی خواتین کے اغوا اور ان کی عصمت دری کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ طرابلس میں پاکستانی سفارت خانے لیبی حکام سے واقعہ پر شدید احتجاج کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خواتین امدادی کارکنان کے خلاف سنگین جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ترجمان نے امید ظاہرکی کہ اس واقعہ میں ملوث حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

برطانوی دفتر خارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ لیبیا میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری خواتین کے ساتھ پیش آئے واقعہ سے آگاہ ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت ان افراد کو قونصلر معاونت فراہم کررہی ہے۔تاہم اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔