دہشت گردوں کا پشاور گرڈ اسٹیشن پر حملہ، آٹھ افراد جاں بحق

کسی گروپ نے ابتک حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور کے قریب واقع ایک بڑے بجلی گھر پر درجنوں دہشت گردوں کے ایک حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ اِس کے ساتھ ہی بجلی کی فراہمی بھی عارضی طور پر معطّل ہو گئی۔

پشاور پولیس کے ایک سینئر افسر جاوید خان نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہے جبکہ دہشت گردوں نے دس ملازمین کو اغوا بھی کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً پچاس دہشت گردوں نے علی الصباح پشاور کے نواح میں بڈھ بیر کے مقام پر بجلی گھر کو نشانہ بنایا۔ اس دوران دو ملازمین فوری طور پر جاں بحق ہو گئے جبکہ دس کو دہشت گرد اپنے ساتھ لے گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ پشاور اور دیگر علاقوں کو بجلی کی فراہمی کے اعتبار سے یہ گرڈ اسٹیشن مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ اس حملے کے بعد متعدد علاقوں میں بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی، جس سے تقریباً ایک لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

پولیس افسر جاوید خان کے بہ قول اغوا کیے جانے والے دس میں پانچ افراد کی لاشیں قریبی کھیتوں سے مل گئی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں نے پانچ افراد کو قتل کرنے کے بعد لاشوں کو بجلی گھر کے قریب کھیتوں میں ہی پھینک دیا جبکہ مزید پانچ افراد ابھی تک لاپتہ ہیں‘۔ کسی بھی گروپ یا تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم حکام کو شبہ ہے کہ اس واردات کے پیچھے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں اور طالبان کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

پشاور میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے 'پیسکو' کے ترجمان شوکت افضال نے بتایا کہ ان کے چار ملازمین اور تین پولیس اہلکار اس حملے میں جاں بحق ہوئے۔ اُنہوں نے کہا کہ ’پشاور الیکٹرسٹی سپلائی کمپنی کا ایک ملازم اور ایک پولیس اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ دہشت گردوں نے پیسکو کے سات ملازمین اور تین پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا۔ بعد ازاں پیسکو کے تین ملازمین اور دو پولیس اہلکاروں کی لاشیں مل گئیں‘۔

شوکت افضال کے بہ قول پیسکو کے چار ملازمین اور پولیس کا ایک اہلکار ابھی تک لاپتہ ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ ’حملے کے بعد تقریباً پانچ گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطّل ہو گئی۔ تاہم بعد میں ہم نے دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا‘۔

پاکستان میں خدشات موجود ہیں کہ مئی میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے دہشت گردی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ طالبان کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کی حمایت کرنے والی جماعتوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق امریکا میں نائن الیون کے بعد سے شروع کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں اب تک پاکستان میں 35 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں