کراچی میں رینجرز کی گاڑی پر بم حملہ، چار اہلکار جاں بحق

کالعدم تحریک طالبان نے بم حملے کی ذمے داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بم دھماکے میں رینجرز کے چار اہلکار جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے کورنگی نمبر پانچ میں رینجرز کی ایک گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔رینجرز کے ذرائع نے بتایا کہ بم دھماکا بھٹائی رینجرز ہیڈکوارٹرز کے نزدیک ہوا ہے۔اس علاقے میں رینجرز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کی بھی اطلاع ملی ہے لیکن حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

رینجرز کے ایک ترجمان نے بم دھماکے میں چار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ گاڑی میں متعدد اہلکار سوار تھے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ گاڑی پر دستی بم پھینکا گیا تھا جس سے وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

بم دھماکے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔ مرنے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو جناح پوسٹ گریجوایٹ اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے اور اسپتال کی سنئیر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سات زخمیوں کو لایا گیا تھا،ان میں سے تین بعد میں دم توڑ گئے اور دو کی حالت تشویشناک ہے۔

پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے بم دھماکے کے بعد جائے وقوعہ کا محاصرہ کرلیا اور میڈیا کے نمائندے کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔ کورنگی کے علاقے میں اس بم دھماکے کے بعد خوف وہراس پھیل گیا اور لوگوں نے اپنی دکانیں اور چھوٹے کاروباری مراکز بند کر دیے۔

کراچی کے ایک سنئیر پولیس افسر طاہر نوید نے کا کہنا ہے کہ رینجرز کے پک اپ ٹرک پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ یہ حملہ رینجرز کی جنگجوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کا ردعمل ہوسکتا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کراچی میں رینجرز پر بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک بیان میں کہا کہ رینجرز ہمارے خلاف کام کررہے تھے،اس لیے ہم نے انھیں ہدف بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں