.

جعلی ڈگری:جمیشد دستی کو تین سال قید ،پانچ ہزار روپے جرمانہ

انتخابات کی تاریخ قریب آنے پرامیدواروں کی نااہلی کے لیے رندا تیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ پنجاب کی ایک عدالت نے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے اور جعلی ڈگری کے کیس سے شہرت پانے والے سابق رکن اسمبلی جمشید دستی کو بالآخر نااہل قرار دے کر تین سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر مظفر گڑھ میں سیشن عدالت کے جج نے بدھ کو سابق رکن اسمبلی کے خلاف فیصلہ سنایا ہے اور ان پر پانچ ہزار روپے جرمانہ بھی عاید کیا ہے۔جمشید دستی کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ لاہور میں اپیل دائر کریں گے۔

جمشید دستی کو جج کے فیصلہ سنائے جانے کے فوری بعد عدالت سے گرفتار کر لیا گیا اور انھیں انتہائی سکیورٹی میں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔انھوں نے گذشتہ روز ملتان میں نیوز کانفرنس میں گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا اور اب ان کا کہنا ہے کہ ان کی نشست پر ان کے بھائی امیدوار ہوں گے۔

جمشید دستی نے پی پی پی کی حکومت کے آخری دنوں میں مظفر گڑھ سے وزیرخارجہ حنا ربانی کھر کے خلاف آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔وہ سابق وزیرخارجہ کے علاوہ سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے خلاف بھی تندوتیز بیانات جاری کرتے رہے تھے۔

جمشید دستی 2008ء میں منعقدہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر مظفر گڑھ کے حلقہ این اے 178 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے لیکن ان کی بی اے کی ڈگری جعلی ثابت ہونے پر 2009ء میں انھیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا لیکن بی اے کی شرط ختم ہونے پر انھوں نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور اپنی ہی خالی کردہ نشست پر دوبارہ منتخب ہوگئے تھے۔

وہ اس بات پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ ان کی بی اے کی ڈگری اصلی ہے۔اگر اس بنا پر انھیں نااہل قرار دیا گیا تھا تو پھر انھیں 2010ء میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیوں دی گئی تھی۔ضمنی انتخاب میں ان کی کامیابی پر صدر آصف علی زرداری نے بھی فتح کے ڈونگرے برسائے تھے اور کہا تھا کہ عدالتیں ان کے ارکان کو نااہل قرار دے رہی ہیں لیکن عوام کی عدالتیں انھیں دوبارہ منتخب کررہی ہیں۔تاہم اب انھوں نے جمشید دستی کے اپنے ہی لیڈروں اور وزراء کے خلاف سخت بیانات کے بعد انھیں سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ماضی میں اپنی ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے پارلیمان کے سابق ایک سو نواسی ارکان کو پانچ اپریل تک اپنی ڈگریوں کی تصدیق کرانے کی ہدایت کررکھی ہے۔دوسری صورت میں انھیں نااہل قرار دے دیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے طور پر ماتحت عدالتوں کو جعلی ڈگری والوں اور بدعنوانیوں میں ملوث سابق ارکان کے خلاف مقدمات جلد نمٹانے کی ہدایت کررکھی ہے تاکہ گیارہ مئی کو پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ سے قبل ہی نااہل اور بدعنوان امیدواروں کو انتخابی دوڑ سے نکال باہر کیا جاسکے۔