.

حدیبیہ پیپر ملز قرضہ کیس میں نیب کا شریف برادران پر اعتراض

لیگی قیادت پر نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی،صحافی ایازامیر کے کاغذات نامزدگی مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب ) نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو حدیبیہ پیپر ملز کے قرضہ کیس میں ماخوذ قرار دے کر آیندہ انتخابات میں ان کی امیدواری پر اعتراضات لگا دیے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف اور ان کے بھائی میاں شہباز شریف پر الزام ہے کہ انھوں نے حدیبیہ پیپر ملز لگانے کے لیے تین ارب اڑتالیس کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کی رقم قرضے کے طور پر لی تھی لیکن انھوں نے یہ رقم واپس نہیں کی اور وہ نادہندہ ہوگئے تھے۔

ان پر اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے اپنے ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔ان کے خلاف یہ کیس 27مارچ 2000ء کو اٹک میں نیب کی عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔اس کیس میں میاں نوازشریف کے تیسرے بھائی عباس شریف مرحوم ،بیٹے حسین نواز ،بیٹی مریم صفدر،حمزہ شہباز ،شمیم اختر ،صبیحہ عباس اور اسحاق ڈار کو بھی ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

نیب نے اس کیس کے ضمن میں الیکشن کمیشن کو اپنی سفارشات سے آگاہ کردیا ہے۔نیب نے آیندہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکروٹنی کے لیے ایک الیکشن سیل قائم کررکھا ہے جو الیکشن کمیشن کی اس معاملے میں معاونت کررہا ہے اور جن امیدواروں کے خلاف نیب کی عدالتوں میں کیس زیر سماعت ہیں،ان کی تفصیل سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا جارہا ہے۔

نیب میں یہ الیکشن سیل قائم کرنے کا فیصلہ بیس فروری کو چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں ایک اجلاس میں کیا گیا تھا۔اس اجلاس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ الیکشن کمیشن متعلقہ اداروں کی معاونت سے ٹیکس چوروں ،قرضے اور یوٹیلیٹی بلوں کے نادہندگان اور سرکاری بنکوں سے قرضے لے کر معاف کرانے والوں کی نشان دہی کرے گا تاکہ انھیں الیکشن لڑنے کا نااہل قرار دیا جاسکے۔

درایں اثناء یہ بھی اطلاع سامنے آئی ہے کہ ایک وکیل نے عدالت عالیہ لاہور میں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف، تحریک انصاف کے لیڈر جاوید ہاشمی، سیاسی رہ نما عابدہ حسین اور سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست گزار ایم اے غنی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے کی روشنی میں یہ سیاست دان الیکشن لڑنے کے اہل نہیں رہے کیونکہ قانون کے تحت اگر عدالت میں کسی شخص کے بارے میں فیصلہ آ جائے تو وہ الیکشن لڑنے کا اہل نہیں رہتا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اصغرخان کیس کے عدالتی فیصلے کے مطابق میاں نواز شریف، جاوید ہاشمی، عابدہ حسین اور ارباب غلام رحیم نے 1990 کے انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کے لیے مہران بنک کے کھاتے سے رقوم وصول کی تھیں۔ اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے اور انھیں الیکشن لڑنے کا نااہل قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن اور عدالت نے ماضی میں مختلف غلط کاریوں ،بدعنوانیوں اور دھوکا دہی کی کارروائیوں میں ملوث سابق ارکان پارلیمان کو نااہل قرار دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس وقت ملک کے بڑے بڑے جغادری اور نامی گرامی سیاست دانوں پر ناہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔

جمعرات کو صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال سے مسلم لیگ ن کے امیدوار برائے قومی اسمبلی اور معروف صحافی ایازامیر کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے نظریہ پاکستان کے مخالف دو کالموں کی بنیاد پر ریٹرننگ افسر نے کاغذات مسترد کیے ہیں۔ایک سابق وفاقی وزیر فیصل صالح حیات اور ان کے مد مقابل امیدوار عابد امام کے کاغذات نامزدگی بھی پانی چوری کے الزام میں مسترد کردیے گئے ہیں۔عابدامام عابد حسین اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی فخرامام کے فرزند ارجمند ہیں۔