.

پاکستانی نوجوان نسل شرعی نظام کی حامی: سروے رپورٹ

نوجوانوں کی اکثریت قنوطیت کا شکار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق تقریباﹰ ایک سو فیصد پاکستانی نوجوان مستقبل کے بارے میں مایوس ہیں اور ان کے خیال میں ان کا ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ یہ بات برٹش کونسل کے ایک سروے میں سامنے آئی ہے۔

بدھ کے روز جاری کردہ سروے کے نتائج کے مطابق ہر پانچ میں سے صرف ایک نوجوان کا خیال ہے کہ آئندہ برس ان کے اقتصادی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ سروے کا موضوع ’اگلی نسل انتخاب کی طرف جا رہی ہے'۔ اس میں 18 برس سے 29 برس کے افراد سے سوال پوچھے گئے۔ سروے کے مطابق قنوطیت تیزی سے پاکستان کی آئندہ نسل کی شخصیت کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس سروے کے نتائج سیاستدانوں کے لیے دھچکا ہیں، جو 11 مئی کے عام انتخابات میں جیت کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ ماہ منتخب حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی ہے۔ خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کے مطابق سابق حکومت جمہوریت کے فروغ میں بھلے ہی کامیاب رہی ہو، لیکن بیشتر پاکستانی اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ آیا ان کے رہنما کبھی غربت، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، بدعنوانی اور طالبان کی انتہاپسندی پر قابو پا سکیں گے؟

برٹش کونسل نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا: ’’آئندہ نسل کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی سب سے اہم وجہ اقتصادی عوامل دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاستدان ملکی مسائل کے حل سے اکثر بہت دُور ہوتے ہیں۔ رائیٹرز کے مطابق پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں تقریباﹰ نصف عرصہ اقتدار میں رہنے والی فوج کو بڑی حد تک قابل ادارہ خیال کیا جاتا ہے۔

پاکستان نے 2008ء میں بین االاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 11 بلین ڈالر کے قرضے کا معاہدہ کر کے ادائیگیوں کے بحران کا رُخ موڑ دیا تھا۔ تاہم 2011ء میں اصلاحات کے اہداف پورے نہ ہونے کے باعث آئی ایم ایف نے قرضہ معطل کر دیا تھا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پاکستان کو رواں برس کے آخر تک نو بلین ڈالر تک کے قرضے کے لیے پھر سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔ برٹش کونسل کا کہنا ہے: ’’بدقسمتی سے، بیشتر نوجوان محسوس کرتے ہیں کہ خوشحالی ان کے ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے۔‘‘

اس سروے کے مطابق دو تہائی سے زائد نوجوانوں کے خیال میں ان کے حالات پہلے کے مقابلے میں زیادہ برے ہو چکے ہیں۔ مہنگائی ایک بڑی تشویش بن چکی ہے۔

سروے کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ حکومت، پارلیمنٹ اور سیاسی پارٹیوں پر نوجوانوں کا اعتماد بہت کم ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج کے ساتھ ساتھ میڈیا اور عدلیہ کو اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔