.

پاکستان کے قبائلی علاقے کی پہلی گھریلو خاتون سیاستدان

بادام زری کے شوہر نے ان کے انتخاب لڑنے کی مکمل حمایت کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی بادام زری پہلی خاتون ہیں جنہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے سیاست میں آنے کا اعلان کیا ہے۔

مڈل تک تعلیم یافتہ 53 سالہ بادام زری نے باجوڑ ایجنسی سے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ باجوڑ کے صدر مقام خار میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران بادام زری نے کہا کہ وہ قبائلی علاقے کی خواتین کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانا چاہتی ہیں۔

بادام زری نے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقے کی خواتین کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے شوہر نے 11 مئی کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کی مکمل حمایت کی ہے۔ ’’یہ ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن میں اب پرعزم اور پر امید ہوں کہ معاشرہ میری مکمل معاونت کرے گا۔‘‘

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق پاکستان کی 180 ملین کی آبادی والا معاشرہ خواتین کے کردار کے حوالے سے خاصا قدامت پسندانہ رویہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے قبائلی علاقے کے پشتون باسیوں کا رویہ زیادہ سخت ہے، جو ایک پسماندہ اور دور دراز خطے میں سخت اسلامی اصولوں پر کاربند ہیں۔ قبائلی علاقے کی بیشتر خواتین کم پڑھی لکھی ہیں، شاذ و نادر ہی گھر سے باہر جاکر ملازمت کرتی ہیں جبکہ عوامی مقامات پر برقعہ زیب تن کیے رکھتی ہیں۔

بادام زری نے خار میں پریس کانفرنس کے موقع پر رنگدار شال اوڑھ رکھی تھی، جس سے انہوں نے اپنی آنکھوں کے علاوہ تمام جسم ڈھانپ رکھا تھا۔ اے پی کے مطابق قبائلی علاقوں میں آباد خواتین کی زندگیاں گزشتہ کچھ برسوں کے دوران مزید تلخ ہوئی ہیں، جب سے شدت پسند قوتوں نے ان علاقوں کو اپنی پناہ گاہیں بنالیا ہے۔

اس ضمن میں سوات میں 14 سالہ طالبہ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی مثال دی گئی ہے۔ باجوڑ ایجنسی کا شمار ان قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں پاکستانی فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا ہے۔ یہاں کے اعلیٰ پولیس عہدیدار اسد انور کے بہ قول بادام زری نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

پاکستانی پارلیمان کی قریب 17 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص ہیں تاہم خواتین دیگر نشستوں کے لیے بھی انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔ بادام زری کے حلقے میں قریب 186000 ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 67000 ہزار خواتین کے ہیں۔ اس نسبت سے اگر انہیں خواتین کی اکثریت نے ووٹ دیا تو وہ انتخاب جیت جائیں گی۔ زری کے بہ قول، ’’میرے فیصلے سے نا صرف خواتین کو حوصلہ ملے گا بلکہ اس سے ہمارے معاشرے سے متعلق یہ غلط تاثر بھی ختم ہوجائے گا کہ یہاں خواتین کی قدر نہیں کی جاتی۔‘‘