راجا پرویز اشرف کے کاغذات مسترد،میاں نواز شریف کے منظور

سابق قائد حزب اختلاف چودھری نثار ایک حلقہ سے انتخاب لڑنے کے نااہل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پرتال کا آج (اتوار کو) آخری دن ہے اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کے کاغذات نامزدگی بدعنوانیوں ،اقربا پروری اور قومی خزانے کے بے دریغ استعمال سے متعلق الزامات پر مسترد کردیے گئے ہیں جبکہ ایک اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 51 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔اپنی سابقہ ''کارکردگی'' کی بنیاد پر آیندہ انتخابات میں کامیابی کے دعوے کرنے والے راجا پرویز اشرف پراعتراض کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں اقربا پروری کا مظاہرہ کیا اور سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کیا تھا۔

وہ راول پنڈی کی تحصیل گوجر خان سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے اور انھوں نے اپنے چند ماہ کے دور حکومت میں قومی خزانے کا ذاتی مفادات کے لیے بے دریغ استعمال کیا تھا اور دوسرے علاقوں کے ترقیاتی فنڈز بھی اپنے حلقۂ نیابت پر لگادیے تھے۔اس کے علاوہ اپنے بھائیوں جاوید اشرف اور عمران اشرف کو بھی اپنے صوابدیدی فنڈز سے رقوم دی تھیں تا کہ وہ بھی آیندہ انتخابات میں راول پنڈی اور اسلام آباد سے امیدوار بن سکیں لیکن ان کی جماعت نے انھیں امیدوار نامزد کرنا گوارا نہیں کیا۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی سبکدوش قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے ساتھ ساتھ قائد حزب اختلاف چودھری نثارعلی خان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے ہیں۔وہ راول پنڈی کے حلقہ این اے 53 سے پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے امیدوار تھے۔

اس حلقہ سے ان کے کاغذات نامزدگی اثاثوں کی تفصیل درست ظاہر نہ کرنے کی بنا پر مسترد کیے گئے ہیں۔ان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض داخل کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیل ظاہر نہیں کی ہے اور اپنے بعض اثاثوں کو چھپایا ہے جس پر ریٹرننگ آفیسر نے چودھری صاحب کے کاغذات نامزدگی مستر د کر دیے ہیں۔وہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف تند وتیز تقریریں کرتے رہے ہیں لیکن خود ان پر ان کی بی اے کی ڈگری اور دہری شہریت کے حوالے سے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

درایں اثناء چودھری نثار علی خان کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 52 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں۔ادھر لاہور کے حلقہ این اے 120 سے ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم کی کرپشن اور اقربا نوازی

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف پر ماضی میں پانی اور بجلی کے وزیر کی حیثیت سے رینٹل پاور منصوبوں میں کروڑوں روپے رشوت اور کمیشن وصول کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔اس کیس میں کرائے کے بجلی گھروں کی مالک نو فرموں پر حکومت سے اپنے منصوبوں کی تنصیب کے لیے بائیس ارب روپے پیشگی وصول کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ان میں سے بیشتر فرموں نے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا تھا یا پھر ان میں غیر ضروری تاخیر کردی تھی۔

راجا پرویز اشرف کے خلاف کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے والے نیب کے تحقیقاتی افسرکامران فیصل 18جنوری کو اسلام آباد کی فیڈرل لاجز میں پُراسرار طور پر مردہ پائے گئے تھے اور ان کی لاش پنکھے سے لٹکتی ہوئی ملی تھی۔ان کی پراسرار موت پر حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔اب یہ کیس عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کامران فیصل کی ناگہانی موت سے تین روز قبل ہی نیب کے حکام کو وزیراعظم راجا پرویز اشرف سمیت سولہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ نیب کے حکام کو رینٹل پاور کیس کے 30 مارچ 2012ء کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کرنے دیا جارہا ہے۔

راجا پرویز اشرف نے اپنے دورحکومت میں اقربا نوازی کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے اپنے داماد راجا عظیم الحق کو عالمی بنک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کردیا تھا۔انھوں نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی اوراہل امیدوار کے نام پر غور کرنے کے بجائے اپنے داماد کو پُرکشش مراعات کی حامل عالمی بنک کی اسامی پر نامزد کر دیا تھا۔

بعض اعلیٰ سرکاری عہدے داروں نے اس نامزدگی کی مخالفت کی تھی لیکن راجا پرویز اشرف نے ان کے اعتراضات کو درخور اعتناء نہیں جانا تھا ۔تاہم عدالت عظمیٰ سابق وزیراعظم کی اقربا نوازی کے آڑے آگئی تھی اور اس نے اس نامزدگی کا از خود نوٹس لے کر ان کے تقرر کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔اس تقرر سے پہلے راجا عظیم الحق دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے چند ہی سال میں گریڈ اٹھارہ سے گریڈ اکیس میں پہنچ گئے تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی سبکدوش ہونے والی حکومت جب 2008ء میں برسراقتدار آئی تو راجا عظیم الحق انکم ٹیکس گروپ میں گریڈ اٹھارہ میں افسر تھے۔دوسال قبل انھیں گریڈ اٹھارہ سے گریڈ بیس میں ترقی دے کر ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشنز میں بھیج دیا گیا تھا۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی برطرفی کے بعد راجا پرویز اشرف وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو انھوں نے اپنے داماد کو ترقی دے کر گریڈ اکیس میں پہنچا دیا اور وہ اپنے خُسر کے دفتر یعنی وزیراعظم سیکرٹریٹ ہی میں تعینات تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں