پرویز مشرف کے اسلام آباد اور کراچی سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد

سابق صدر پر منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور ملکی آئین توڑنے کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں جبکہ چترال کے حلقہ این اے 32 سے منظور کر لیے گئے ہیں۔

کراچی کے ریٹرننگ آفیسر کے بہ قول سابق صدر پر آئین سے انحراف اور ججوں کو نظر بند کرنے کے الزامات ہیں اس لیے وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔ پرویز مشرف کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ 250 این اے سے امیدوار تھے۔

ہفتے کے روز اسی حلقہ سے ان کے مد مقابل جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیدوار اور سابق ناظم اعلیٰ کراچی نعمت اللہ خان نے ان کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا تھا۔ نعمت اللہ خان کے مطابق سابق فوجی صدر نے دو بار آئین توڑا تھا۔اس لیے وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 سے بھی سابق صدرپرویزمشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں۔یہاں بھی ان پر منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کومعزول اورنظربند کرنے پر مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ ان پر یہ بھی اعتراض کیا گیا کہ وہ لال مسجد آپریشن کے دوران بے گناہ افراد کے قتل میں بھی ملوث ہیں۔ان اعتراضات کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے ان کے کاغذات مسترد کردیے ہیں۔

سابق صدر پرویزمشرف نے گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔تین حلقوں سے ان کے کاغذات مسترد کردیے گئے ہیں لیکن شمال مغربی ضلع چترال سے ان کے کاغذات منظور کر لیے گئے ہیں۔

اس سے پہلے جمعہ کو صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں بھی ریٹرننگ آفیسر نے جنرل پرویز مشرف کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 139 سے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انھیں انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دے دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں