سابق صدر پرویز مشرف کی کل سپریم کورٹ میں طلبی

عدالتی حکم پر وزارت خارجہ نے نام ای سی ایل میں شامل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف پر آئین توڑنے متعلق مقدمے میں انہیں کل طلب کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ وفاق کو نوٹس بھی جاری کردیا ہے۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ کل مشرف کی طلبی کو یقینی بنائیں۔

درایں اثناء سیکریٹری داخلہ کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے تاکہ پرویز مشرف ملک چھوڑ کر جا نہ سکیں اور مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں بھی ڈال دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں آج جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع کرنے کی اپیلوں کی سماعت پہلے ایک تین رکنی بینچ نے کرنا تھی اور اس بینچ کے سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری تھے۔ اتوار کے روز عدالت عظمیٰ کی جانب سے بتایا گیا کہ پیر کے روز سماعت دو رکنی بینچ کرے گا اور اس کی سربراہی جسٹس جواد خواجہ کریں گے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بینچ سے علاحدگی اختیار کر لی ہے۔

سماعت کے دوران راولپنڈی ہائی کورٹ بار کے وکیل حامد خان نے عدالت سے درخواست کی کہ وفاقی حکومت کو پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کی جائے، جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل ابھی ہونا ہے اور ابھی صرف یہ دیکھا جا رہا ہے کہ وفاق نے کیا کیا۔

سماعت میں مولوی اقبال حیدر کے وکیل اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سندھ ہائی کورٹ پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دے چکی ہے۔ جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت نے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا کیونکہ یہ عام معاملہ نہیں بلکہ ملک کی بنیاد اور آئین کا معاملہ ہے۔

اس سے پہلے، صدر ایل ایچ سی بی اے، راولپنڈی بنچ، توفیق آصف اور مولوی اقبال حیدر نے آئین کے آرٹیکل 183 (3) کے تحت درخواست دائر کی تھیں۔

توفیق آصف نے عدالت نے استدعا کی تھی کہ مشرف کو سن 2007 میں ایمرجنسی لگانے کے لیے ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔

سابق آرمی چیف عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے چوبیس مارچ کو خود ساختہ جلا وطنی کے بعد پاکستان لوٹے ہیں۔ مشرف نے کراچی، اسلام آباد، چترال اور قصور سے انتخابات لڑنے کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں