سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی

سابق صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت 15 اپریل تک ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے اور ان کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت پندرہ اپریل تک ملتوی کردی ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل دورکنی بنچ نے منگل کو سابق مطلق العنان صدر کے خلاف مقدمے کی سماعت کی۔ان کے خلاف 2007ء میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔

پرویز مشرف ذاتی طور پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کی نمائندگی ان کے وکیل احمد رضا قصوری نے کی۔انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل کو اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کا جواب دینے کے لیے چھے ہفتے کا وقت دیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ان کے موکل اپنے خلاف اٹھائے گئے تمام نکات کا جواب دیں گے اور متعدد خفیہ نام بھی اس جواب میں افشاء کیے جائیں گے۔

اس کے جواب میں جج صاحبان نے کہا کہ وہ کوئی نیا پینڈورا باکس کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔انھوں نے سابق صدر کے وکیل کو ہدایت کی کہ کہ وہ چھے دن کے اندر اپنا جواب داخل کردیں اور سماعت پندرہ اپریل تک ملتوی کردی۔

جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت کے وقت عدالت میں وفاقی حکومت کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔قبل ازیں اٹارنی جنرل عرفان قادر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں گے۔

مشرف نے فیس بُک پر اپنے صفحے پر لکھا ہے کہ ''میں نے معروف وکلاء پر مشتمل پینل سے کہا ہے کہ وہ آنے والے کل سپریم کورٹ میں بھرپو طریقے سے دفاع کریں۔اس طرح کے کیسوں سے مجھے ڈرایا دھمکایا نہیں جا سکتا''۔

سوموار کو مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے سابق صدر کو آج ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے کسی بھی راستے سے ان کے ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی عاید کردی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں