.

پاکستانی طالبان نے انسداد پولیو مہم کی مشروط حمایت کردی

طالبان ترجمان کی ماضی میں پولیو ٹیموں پر حملوں میں ملوث ہونے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے پولیو کے خاتمے کے لیے ملک میں ویکسین پلانے کی مہم کی مشروط طور پر حمایت کا اعلان کیا ہے اور جنگجو تنظیم نے یہ شرط عاید کی ہے کہ انسداد پولیومہم کو امریکا کی جاسوسی کے لیے استعمال نہیں کیاجائے گا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ''اگر وہ ہمیں اس بات کا قائل کردیں کہ پولیو کے یہ قطرے اسلامی ہیں اور خفیہ ایجنسیاں انسداد پولیو مہم کو ہمارے جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال نہیں کررہی ہیں تو ہم عوام کے مفاد میں کسی بھی ویکسی نیشن مہم کی مخالفت نہیں کریں گے''۔

یاد رہے کہ امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے نے 2011ء میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے کے لیے پاکستان کے شمال مغربی شہر ایبٹ آباد میں پاکستانی ڈاکٹر طارق آفریدی کی سرکردگی میں جعلی پولیو مہم چلائی تھی۔اس مہم کی رپورٹس منظرعام پر آنے کے بعد پاکستانی طالبان نے شمال مغربی علاقوں میں پولیو کی ویکسین پلانے پر پابندی عاید کردی تھی۔

احسان اللہ احسان کا کسی نامعلوم مقام سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ایبٹ آباد کے واقعے کے بعد ویکسین کے قطرے پلانے کی مہم کے بارے میں ہمارے شکوک وشبہات میں اضافہ ہوگیا تھا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اب ہم اس مہم کی حمایت کو تیار ہیں لیکن اس سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہمارے خدشات و تحفظات دور کیے جائیں۔اگر ہمیں اس بات کا یقین دلا دیا جاتا ہے کہ پولیو مہم کو امریکا یا دوسرے غیر ملکی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا تو ہم اس کی مخالفت نہیں کریں گے''۔

پاکستانی طالبان کے ترجمان نے حالیہ مہینوں میں ملک کے مختلف شہروں میں پولیو کے قطرے پلانے کے لیے جانے والے طبی عملے اور ان کے تحفظ پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ ہم پولیو ٹیموں پر حملوں یا انھیں دھمکیاں دینے میں ملوث نہیں ہیں۔ہمارے انسداد پولیو مہم کے بارے میں تحفظات ضرور ہیں لیکن ہم ٹیموں پر حملے نہیں کرتے''۔

احسان اللہ احسان نے مزید کہا کہ ''ہم مفاد عامہ کے اداروں یا غیر فوجی تنصیبات پر ہرگز بھی حملے نہیں کریں گے''۔یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان ترجمان نے پولیو ٹیموں پر حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے حالانکہ پہلے نامعلوم طالبان ترجمان ہی ان حملوں کی ذمے داری قبول کرتے رہے ہیں جبکہ سکیورٹی ادارے بھی طالبان جنگجوؤں پر بے ضرر طبی کارکنان پر حملوں کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان دنیا میں ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا وائرس ابھی تک موجود ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد بچے ہرسال معذور ہورہے ہیں۔بنیادی سہولتوں سے محروم دوردراز دیہی علاقوں میں پولیو کے وائرس کے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں۔اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کی بستیوں میں بھی متعدد بچے پولیو کا شکار ہوکر معذور ہوگئے ہیں۔