.

پرویزمشرف کا امریکا کو ڈرون حملوں کی اجازت دینے کا اعتراف

سابق صدر نے ڈرون حملوں سے متعلق مغربی میڈیا کی رپورٹس کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت نے امریکا کو ملک میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے میزائل حملوں کی اجازت دی تھی اور اس ضمن میں ان کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا تھا۔

سابق فوجی صدر نے سی این این کے ساتھ جمعہ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ڈرون حملوں کی چند ایک مواقع کے لیے مشروط اجازت دی گئی تھی۔اس کی ایک شرط یہ تھی ڈرون حملہ اس وقت کیا جائے گا جب ہدف بالکل الگ تھلگ ہوگا اور اس سے کوئی اور نقصان نہیں ہوگا۔اس کو انھوں ''کولیٹرل'' نقصان کا نام دیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے کسی سابقہ یا موجودہ اعلیٰ عہدے دار نے امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے کو خاص طور پر ملک کے شمال مغربی علاقوں میں ڈرون حملوں کی اجازت دینے کا اقرار کیا ہے۔وگرنہ اس سے پہلے پاکستانی ارباب اقتدار ، فوجی قیادت اور سول حکام امریکا کے ساتھ کسی خفیہ معاہدے کی تردید کرتے رہے ہیں۔

جنرل مشرف کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی امریکی اور برطانوی اخبارات میں امریکی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی ڈرون حملوں کے ہدف کی نشاندہی کے لیے امریکی سی آئی اے کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہے۔اس ضمن میں ان کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ موجود تھا لیکن ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر پاکستانی عہدے داروں نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی۔تاہم اب خود سابق صدر نے ان تردیدوں کی حقیقت کا پردہ چاک کردیا ہے اور امریکا کے ساتھ ڈرون حملوں کی اجازت دینے کے بارے میں خفیہ معاہدے کا اقرار کر لیا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف اسی ماہ پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے قریباً ساڑھے چار سال کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد بیرون ملک سے لوٹے ہیں۔ انھوں نے قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ان میں سے تین حلقوں سے ان کے کاغذات مسترد ہو چکے ہیں اور چوتھے حلقے میں بھی ان پر اعتراضات کیے گئے ہیں۔

انتخابی عذرداریوں کے علاوہ انھیں اس وقت سپریم کورٹ میں آئین کی دفعہ چھے کے تحت غداری کے مقدمے کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ ان کے خلاف سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور بزرگ سیاست دان اکبر بگٹی کے قتل اور لال مسجد آپریشن میں بے گناہ طلبہ وطالبات کی ہلاکتوں کے مقدمات بھی زیرسماعت ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی سی آئی نے سن 2004ء میں پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے وزیرستان پر ڈرون حملوں کا آغاز کیا تھا اور پہلے ڈرون حملے میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔امریکی سی آئی اے نے حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کم سے کم چار سو ڈرون حملے کیے ہیں۔ان میں زیادہ تر حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان پر کیے گئے ہیں۔امریکی حکام کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ میزائل حملوں میں القاعدہ کے کمانڈر یا طالبان جنگجو اور ان کے حامی مارے گئے یا مارے جارہے ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکیوں کے اس دعوے کو مسترد کرتی چلی آرہی ہیں اور انھوں نے ان حملوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جارہے ہیں۔مذکورہ اخباری رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں طالبان یا القاعدہ کے دوسرے درجے کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے حالانکہ ان سے امریکا کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

پاکستان سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں پر امریکا سے متعدد مرتبہ احتجاج کر چکا ہے اور انھیں غیر قانونی اور اپنی علاقائی خود مختاری کے خلاف قراردیتا ہے لیکن پاکستان کی سول حکومت کے اس احتجاج کو دکھاوا قرار دیا جاتا رہا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں عام شہری ،بچے ،بوڑھے ،خواتین اور نوجوان نشانہ بن رہے ہیں اور طالبان جنگجوٶں کے شُبے میں علاقے میں موجود لوگوں کو بلا امتیاز مارا جا رہا ہے۔پاکستان کی دینی وسیاسی جماعتیں بھی ان حملوں کی شدید مخالفت کرتی رہی ہیں۔