.

شمالی وزیرستان میں امریکی سی آئی اے کا ڈرون حملہ، چار افراد ہلاک

طالبان نے اے این پی کے امیدوار کے قتل کی ذمے داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ڈرون طیارے نے دتہ خیل کے علاقے میں ایک مکان پر دو میزائل داغے ہیں جس کے نتیجے میں طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے چار افراد مارے گئے ہیں۔22مارچ کے بعد اس علاقے میں یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔

درایں اثناء طالبان نے شمال مغربی علاقے وادی سوات میں بم دھماکے میں صوبہ خیبر پختونخوا کی سابق حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ایک انتخابی امیدوار کو بم دھماکے میں ہلاک کرنے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔اے این پی کے امیدوار مکرم شاہ سوات کے علاقے منگلوار میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں مارے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق وادی سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے بارہ کلومیٹر دور واقع علاقے منگلوار کے گاؤں بنجوٹ میں مکرم شاہ کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اس وقت وہ اکیلے ہی کار میں سوار تھے اور کوئی اور ان کے ساتھ سوار نہیں تھا۔

ادھر صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں اے این پی کے ایک اور امیدوار سید معصوم شاہ ایک بم حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ان پر چارسدہ کی تحصیل شب قدر کے گاؤں کاتوزئی میں منعقدہ ان کے انتخابی جلسے کے قریب بم حملہ کیا گیا تھا۔واقعے میں تین اور افراد زخمی ہوگئے ہیں۔معصوم شاہ قبل ازیں فروری 2008ء میں منعقدہ عام انتخابات کے دوران بھی ایک انتخابی ریلی پر بم حملے میں زخمی ہو گئَے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اے این پی کے دونوں انتخابی امیدواروں پر بم حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کسی نامعلوم مقام سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان دونوں امیدوار پر بم حملے ان کی جماعت کے سیکولر نظریات کی بنا پر کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی طالبان نے اے این پی کے علاوہ دو اور سیکولر جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی بم حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔ گذشتہ ہفتے صوبہ سندھ کے ضلع حیدر آباد میں ایم کیو ایم کا ایک انتخابی امیدوار حملے میں مارا گیا تھا اور طالبان نے ان کے قتل کی ذمے داری قبول کی تھی۔