میاں نوازشریف اور شہباز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت

سابق صدرپرویزمشرف اور سابق وزیراعظم پرویزاشرف کی اپیلیں مسترد،نااہلی برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عدالت عالیہ لاہور کے الیکشن ٹرائبیونل نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف اور ان کے بھائی سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے ہیں اور انھیں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے جبکہ سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل مسترد کردی گئی ہے۔

میاں نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 سے امیدوار ہیں اور میاں شہباز شریف نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 161 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔میاں نواز شریف کے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات میں ان پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے اثاثوں کو چھپایا تھا اور وہ اربوں ڈالرز مالیت کی منی لانڈرنگ میں بھی ملوث رہے تھے۔دو شہریوں بابرامین اور سعید اقتدار نے پنجاب اسمبلی کی رکنیت کے لیے جمع کرائے گئے میاں شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا تھا۔

راول پنڈی کے الیکشن ٹرائبیونل نے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 51 سے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف دائر اپیل مسترد کردی ہے اور ان کی نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔قبل ازیں ریٹرننگ افسر نے سرکاری فنڈز کے غلط استعمال اور اقربانوازی کے الزامات پر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے اور انھیں الیکشن لڑنے کا نااہل قرار دیا تھا۔

الیکشن ٹرائبیونل نے پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کی خاتون امیدوار ثمینہ خاور حیات کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ریٹرننگ افسر نے ان کی بی اے کی جعلی ڈگری کی بنا پر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گذشتہ روز ہی انھیں گریجوایشن کی جعلی ڈگری پر 2008ء کے عام انتخابات میں حصہ لینے پر نااہل قرار دیا تھا اور ان سے صوبائی اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے قومی خزانے سے وصول کردہ تمام رقوم واپس لینے کا حکم دیا تھا۔اب پتا نہیں الیکشن ٹرائبیونل نے کس بنیاد پر جعل سازی کی مرتکب اس خاتون کو دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

ضلع گوجرانولہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر امتیازصفدر وڑائچ کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ان کے کاغذات نامزدگی اثاثے چھپانے کے الزام میں مسترد کیے گئے تھے۔

ادھر پشاور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹرائبیونل نے جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 27 سے حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ضلع لکی مروت کے اس حلقہ سے تعلق رکھنے والے ایک ووٹر نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

کراچی میں الیکشن ٹرائبیونل نے سابق صدر پرویز مشرف کی کاغذات نامزدگی کو مسترد کیے جانے کے خلاف دائرکردہ اپیل کو رد کردیا ہے۔اس سے پہلے ریٹرننگ آفیسر نے سابق صدر کو آئین سے انحراف اور ججوں کو نظر بند کرنے کے الزامات پرعام انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دیا تھا۔ پرویز مشرف کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ 250 این اے سے امیدوار تھے۔

اسی حلقہ سے ان کے مد مقابل جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیدوار اور سابق ناظم اعلیٰ کراچی نعمت اللہ خان نے ان کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا تھا۔ نعمت اللہ خان کے مطابق سابق فوجی صدر نے دو بار آئین توڑا تھا۔اس لیے وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 سے بھی سابق صدرپرویزمشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے تھے۔یہاں بھی ان پر منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کومعزول اورنظربند کرنے پر مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

اِس کے علاوہ ان پر یہ بھی اعتراض کیا گیا تھا کہ وہ لال مسجد آپریشن کے دوران بے گناہ افراد کے قتل میں بھی ملوث رہے تھے۔ان اعتراضات کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے ان کے کاغذات مسترد کردیے تھے۔اس کے خلاف سابق صدر کی دائر کردہ اپیلوں کو خارج کردیا گیا ہے۔

سابق صدر پرویزمشرف نے آیندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔تین حلقوں سے ان کے کاغذات مسترد کردیے گئے جبکہ شمال مغربی ضلع چترال سے ان کے کاغذات منظور کر لیے گئے تھے لیکن وہاں مسلم لیگ ن نے ان کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کررکھا ہے اور الیکشن ٹرائبیونل نے اس پر ابھی اپنا فیصلہ نہیں سنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں