.

سابق صدر پرویز مشرف عام انتخابات کے لیے دوڑ سے باہر

قومی اسمبلی کے چارحلقوں سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد، نظرثانی کی اپیلیں خارج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں اور ان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، کراچی ،قصور اور چترال سے قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلیں خارج کردی گئی ہیں۔

منگل کو سابق صدر کے شمال مغربی ضلع چترال کے حلقہ این اے 32 سے بھی کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔اس سے پہلے قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاچکے ہیں۔پرویز مشرف کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں الیکشن ٹرائبیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

پرویزمشرف کے قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے پہلے مرحلے ہی میں کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے تھے جبکہ چترال سے ان کے کاغذات منظور کر لیے گئے تھے لیکن وہاں ان کی مخالف جماعت مسلم لیگ نواز کے اعتراضات کے بعد اب جانچ پڑتال کے مرحلے میں کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں۔

عدالت عالیہ لاہور کے الیکشن ٹرائبیونل نے بھی آج سابق صدر کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 139 سے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف نظرثانی کی اپیل مسترد کردی ہے۔الیکشن ٹرائبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سابق صدر نے تین مرتبہ آئین توڑا تھا۔اس لیے وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے ہیں۔

گذشتہ جمعہ کو ضلع قصور نے ریٹرننگ آفیسر نے اس حلقہ سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انھیں انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دے دیا تھا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 سے بھی پرویزمشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف دائر اپیل کو خارج کردیا گیا ہے۔

سابق فوجی صدر پر آئین سے انحراف ،منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کومعزول اورنظربند کرنے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔اِس کے علاوہ ان پر یہ بھی اعتراض کیا گیا تھا کہ وہ 2007ء میں لال مسجد آپریشن کے دوران بے گناہ افراد کے قتل میں بھی ملوث ہیں اور وہ آئین کی دو دفعات 62 63 کے تحت پارلیمان کی رکنیت کے لیے درکار اہلیت کے حامل نہیں ہیں۔ان اعتراضات کے بعد انھیں نااہل قرار دے دیا گیا۔

پرویز مشرف گذشتہ ماہ پاکستانی طالبان کی جانب سے قتل کی دھمکیوں اور اپنے خلاف عدالتوں میں دائر مقدمات کے باوجود عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے قریباً پانچ سالہ خود ساختہ جلاطنی ختم کرکے وطن لوٹے تھے لیکن ان کا پارلیمان کی نشست جیتنے کا خواب چکنا چور ہوکر رہ گیا ہے اور انھیں قومی اسمبلی کے چاروں حلقوں سے انتخابات سے قبل ہی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ واضح رہے کہ دو سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔