.

طالبان نے بوسٹن دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی

پاکستان کی طرف سے بوسٹن دھماکوں کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے امریکا کے شہر بوسٹن میں میراتھن ریس سوموار کے روز ہونے والے دھماکوں میں تنظیم ملوث نہیں ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کر ارسال کردہ تردیدی بیان میں طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ ان کی تنظیم اگرچہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر کاربند ہے تاہم گزشتہ روز بوسٹن میں ہونے والے حملوں میں ان کا ہاتھ نہیں ہے۔ 'تحریک طالبان امکانی حد تک اپنے طے شدہ اہداف پر حملے جاری رکھے گی۔'

یاد رہے پاکستان کی یہ انتہا پسند تنظیم ماضی میں امریکی شہر نیویارک کے 'ٹائمز اسکوائر' دھماکے کہ ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ سن دو ہزار دس میں ہونے والے اس دھماکے کی پاداش میں پاکستان نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

درایں اثنا پاکستان نے امریکا کے شہر بوسٹن میں میراتھن دوڑ کے دوران بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو توقع ہے کہ دہشت گردی کے اس وحشیانہ واقعہ میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

بیان میں کے مطابق حکومت اور پاکستانی عوام میراتھن دوڑ کے دوران بم حملوں پر ’’انتہائی افسردہ‘‘ ہیں۔ ’’اس شرمناک واقعہ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔‘‘ دفتر خارجہ کے بیان میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا گیا۔

امریکی ریاست میساچوسٹس میں پیر کو ہونے والی میراتھن دوڑ کے مقابلے کی جگہ پر ہزاروں افراد موجود تھے جہاں ریس کی اختتامی لائن کے قریب چند سیکنڈ کے وقفے سے یکے بعد دیگر دو بم دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 140 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔