.

جنوبی وزیرستان: ڈرون حملے میں پانچ افراد ہلاک

طالبان ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی تحصیل سراروغہ میں بدھ کے روز ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق ڈرون طیارے سے دو میزائل تحریک طالبان پاکستان کے ایک ٹھکانے پر داغے گئے جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ طالبان کا ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

یاد رہے کہ امریکی سی آئی نے سن 2004ء میں پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے وزیرستان پر ڈرون حملوں کا آغاز کیا تھا اور پہلے ڈرون حملے میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔امریکی سی آئی اے نے حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کم سے کم چار سو ڈرون حملے کیے ہیں۔ان میں زیادہ تر حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان پر کیے گئے ہیں۔امریکی حکام کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ میزائل حملوں میں القاعدہ کے کمانڈر یا طالبان جنگجو اور ان کے حامی مارے گئے یا مارے جارہے ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکیوں کے اس دعوے کو مسترد کرتی چلی آرہی ہیں اور انھوں نے ان حملوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جارہے ہیں۔مذکورہ اخباری رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں طالبان یا القاعدہ کے دوسرے درجے کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے حالانکہ ان سے امریکا کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

پاکستان سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں پر امریکا سے متعدد مرتبہ احتجاج کر چکا ہے اور انھیں غیر قانونی اور اپنی علاقائی خود مختاری کے خلاف قراردیتا ہے لیکن پاکستان کی سول حکومت کے اس احتجاج کو دکھاوا قرار دیا جاتا رہا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں عام شہری، بچے، بوڑھے، خواتین اور نوجوان نشانہ بن رہے ہیں اور طالبان جنگجوٶں کے شُبے میں علاقے میں موجود لوگوں کو بلا امتیاز مارا جا رہا ہے۔ پاکستان کی دینی وسیاسی جماعتیں بھی ان حملوں کی شدید مخالفت کرتی رہی ہیں۔