.

مشرف ضمانت نامنظوری کے بعد کمرہ عدالت سے فرار

دہشتگردی کی دفعات جاری کرنے کا عدالتی حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد ہائی کورٹ نے ججز نظر بندی کیس سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کمہ عدالت سے فرار ہوگئے۔ جمعرات کو مشرف کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے عدالت نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

پرویز مشرف اپنے فارم ہاؤس چک شہزاد پہنچ گئے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ پولیس کچھ دیر میں انہیں وہاں گرفتار کرنے کے لیے بہنچ جائے گی۔ عدالت نے ان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس کے علاوہ پرویز مشرف نے اپنے پارٹی نگراں اور عکلاء کا ایک اجلاس طلب کرلیا ہے جس کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ انہیں گرفتاری دینی ہے کہ نہیں دینی۔ جسٹس شوکت عزیزصدیقی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے پرویز مشرف کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر پرویز مشرف نے ضمانت میں توسیع کی درخواست کی لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اسے خارج کردیا اور سابق آمر کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ گزشتہ ہفتے مشرف کو چھ دن کی عبوری ضمانت ملی تھی۔

خیال رہے کہ مشرف کو ججز نظر بندی میں عدالت کے اشتہاری مجرم قرار دے چکی ہے۔ گیارہ آگست سن 2009 کو چوہدری محمد اسلم گمان ایڈوکیٹ کی شکایت پر درج ایف آئی آر پر یہ کیس چلایا گیا تھا۔ انہوں نے پولیس سے کہا تھا کہ 3 نومبر سن 2007 میں ایمرجنسی لگانے کے بعد ججز کو نظر بند کرنے کے جرم میں مشرف کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔