.

ملالہ یوسفزئی، دنیا کی 100 با اثر ترین شخصیات میں شامل

باراک اور میشل اوباما بھی اس فہرست میں شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی میگزین ٹائمز نے پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو سال کی 100 با اثر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ وہ گزشتہ برس طالبان کے ایک حملے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں۔

سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مہم چلانے والی 15 سالہ ملالہ یوسفزئی کو طالبان نے گزشتہ برس اکتوبر میں ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان میں ابتدائی علاج کے بعد انہیں سرجری کی غرض سے برطانیہ منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں برمنگھم کے ایک ہسپتال میں ان کا علاج کیا گیا تھا۔ صحت یابی کے بعد وہ برطانیہ میں ہی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ملالہ یوسفزئی کو رواں برس کے نوبل انعام برائے امن کے لیے بھی نامزد کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کی نمائندگی کرنے والی وہ ایسی واحد شخصیت ہیں، جنہیں ٹائمز میگزین نے اس برس سو با اثر ترین افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

ٹائمز میگزین ہر برس 100 ایسے افراد کی فہرست جاری کرتا ہے، جنہوں نے آرٹ، بزنس، سیاست یا کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں گرانقدر خدمات سر انجام دی ہوں۔ اس مرتبہ اس فہرست میں ہالی ووڈ کے معروف ڈائریکٹر اسٹیون اسپیلبرگ اور رواں برس بہترین اداکار کی کیٹیگری میں آسکر انعام حاصل کرنے والے ڈینیل ڈے لوئس کے علاوہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن بھی شامل ہیں۔ نو منتخب پاپائے روم فرانسس بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ میشل اوباما بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ باراک اوباما کو آٹھویں مرتبہ اس فہرست میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

جن دیگر سیاستدانوں کو اس مرتبہ 100 با اثر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، ان میں امریکی سینیٹر رانڈ پال، چینی صدر شی جِن پِنگ، میانمار میں جمہوریت کی علامت تصور کی جانے والی آن سانگ سوچی اور کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے نوجوان رہنما کم جونگ اُن بھی شامل ہیں۔

ٹائمز میگزین نے موسیقی کی دنیا سے جسٹن ٹمبرلیک ، جے زی اور ان کی اہلیہ بے آنسے کو بھی رواں برس کی با اثر ترین شخصیات میں شمار قرار دیا ہے۔ کھیلوں میں اطالوی فٹ بالر ماریو بالو ٹیلی اور امریکی باسکٹ بال اسٹار لنڈسے وان بھی شاملِ فہرست ہیں۔