.

مجسٹریٹ عدالت کی جانب سے مشرف کا راہداری ریمانڈ

ریٹائرڈ جنرل کی گرفتاری کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں اسلام اباد کی ایک مقامی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف مقدمات میں دہشت گردی کی دفعہ 680-A کا اضافہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کا 2 روزہ راہداری ریمانڈ دے دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم میں قرار دیا گیا ہے پرویز مشرف کو دو روز کے اندر راوالپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ججز نظر بندی کیس میں ضمانت منسوخ ہونے کے تقریباً 24 گھنٹے بعد حکام کو گرفتاری دے دی ہے جس کے بعد ان کی رہائش گاہ کو اگلے 48 گھنٹوں کیلیے سب جیل قرار دے گیا۔

وہ اسلام آباد میں واقع اپنی رہائش گاہ چک شہزاد واپس جانے سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ عباس شاہ کی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے مشرف کیخلاف الزامات کی فہرست دہشت گردی کی دفعہ 780-A کا بھی اضافہ کیا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل محمد بلال مغل کی عدالت سے مشرف کی 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جبکہ قمر افضل نے عدالت سے اپنے مؤکل کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کی استدعا کی۔

عدالت نے قرار دیا کہ سابق صدر کے خلاف ججز کیس میں انسداد دہشتگردی کی دفعہ شامل ہے لہٰذا سرنڈر کیے بغیر ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ مزید براں پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مشرف کی جان کو خطرہ ہے لہٰذا ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا جائے۔

عدالت نے سابق صدر پر انسداد دہشت گردی کی دفعہ 680-A کا اضافہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کا 2 روزہ ٹرانزٹ ریمانڈ دے دیا، اسلام آباد میں مجسٹریٹ کی عدالت میں موجود ایک آفیشل نے اس حکم کی تصدیق کر دی ہے۔ مشرف اب 21 اپریل کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش ہوں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز ججز نظر بندی کیس میں سابق صدر کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا تاہم مشرف عدالت سے فرار ہو گئے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پرویز مشرف کو گرفتار کر کے ان سے قانونی طریقے سے نمٹا جائے۔

اس سے قبل جمعرات کو آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل محمد امجد نے کہا تھا کہ اگر ان کے گھر کو سب جیل قرار دیا جاتا ہے تو ان کی گرفتاری کے بعد ضمانت کی درخواست دائر کی جائے گی۔

امجد کا کہنا تھا کہ اگر ان کی پارٹی کے سربراہ گرفتار ہو جاتے ہیں تب بھی آل پاکستان مسلم لیگ آئندہ الیکشن میں حصہ لے گی۔

ججز نظربندی کیس

یہ مقدمہ 11 اگست 2009 کو ایڈووکیٹ چوہدری محمد اسلم گھمن کی جانب سے سابق جنرل کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر پر مبنی ہے۔

اس میں پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ سابق صدر کی جانب سے 3 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت 60 ججوں کو نظر بند رکھنے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرے۔

یہ مشرف کے خلاف پاکستانی عدالتوں میں جاری تین اعلیٰ سطح کے مقدمات میں سے ایک ہے، سابق فوجی آمر پر 2007 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل اور 2006 میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کے الزام میں مقدمات کا سامنا ہے۔

مشرف 11 مئی کو ہونے والے الیکشن میں حصہ لینے کیلیے چار سال کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد گزشتہ ماہ وطن واپس لوٹے تھے، وطن واپسی پر تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ قوم پرستوں نے انہیں نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

رواں ہفتے الیکشن کمیشن کے آفیشل نے سابق صدر کو قومی اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑنے کیلیے نااہل قرار دے دیا تھا جس سے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے سیاست میں مرکزی جگہ حاصل کرنے کا ان کا خواب چکنا چور ہو گیا تھا۔