.

مشرف 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر لگژری 'سب جیل' منتقل

فیصلہ اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق صدر پرویز مشرف ہفتے کو اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے مشرف کے لگژری فارم ہاؤس کو ہی سب جیل قرار دے کر انہیں گھر منتقل کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں گزشتہ روز قائم کی گئی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہفتہ کو اپنے پہلے فیصلے میں جنرل مشرف کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دیا۔

عدالتی فیصلہ آنے کے بعد جنرل مشرف کو سخت سیکورٹی میں پولیس ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا۔ اس موقع پر اسلام آباد کچہری میں مشرف مخالف وکلاء نے سابق صدر کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے چند حامیوں پر تشدد بھی کیا۔

بعد ازاں انتظامیہ کی طرف سے اسلام آباد کے نواح میں واقع جنرل مشرف کے فارم ہاؤس کو ہی سب جیل قرار دیتے ہوئے انہیں پولیس ہیڈ کوارٹر سے چک شہزاد منتقل کر دیا گیا۔

سابق صدر پرویز مشرف ہفتے کو اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جج کوثر عباس زیدی کے سامنے پیش ہوئے جہاں انھیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے انہیں چار مئی کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مدعی اسلم گھمن کے وکیل نے ان کے جسمانی، جب کہ پولیس اور پرویز مشرف کے وکیل نے ان نے عدالتی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ اس موقعے پر عدالت میں سخت سکیورٹی کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد پولیس نے مقامی عدالت کی طرف سے دو روزہ ریمانڈ دیے جانے کے بعد سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو تفتیش کے لیے پولیس ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا ہے۔

جمعہ کی صبح جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ان کے فارم ہاؤس سے گرفتار کر کے پولیس اور رینجرز کے کڑے پہرے میں مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے پرویز مشرف کا دو روزہ ٹرانزٹ (راہداری) ریمانڈ دیتے ہوئے انہیں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سال 2007 میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبس بے جا میں رکھنے کے مقدمے میں گزشتہ روز جنرل مشرف کے خلاف انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمے کے روز ایوان بالا یعنی سینٹ میں بھی جنرل مشرف کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ چلانے کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی۔

درایں اثناء اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی پاکستان واپسی یا اُن کے خلاف قانونی کارروائی کا معاملہ قطعی طورپر پاکستان کے آئین اور قوانین کے مطابق حل ہونا ہے۔ جمعہ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور کسی مخصوص جماعت یا امیدوار کے حق میں نہیں ہے۔