حکومتِ پاکستان کا مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے سے انکار

مینڈیٹ محدود ہے، مقدمہ نہیں چلا سکتے: سپریم کورٹ میں جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی نگران حکومت نے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلانے سے صاف انکار کر دیا ہے اور سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے اپنے جواب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سابق صدر کے خلاف یہ مقدمہ چلانا اس کے محدود مینڈیٹ سے ماورا ہے۔

نگران حکومت نے سوموار کوعدالت عظمیٰ میں داخل کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ''وہ کوئی بھی متنازعہ اقدام سے گریز کرنا چاہتی ہے اور کوئی بھی ایسا عمل نہیں کرنا چاہتی جو مستقبل میں منتخب حکومت کے لیے ناقابل تنسیخ ہو''۔

عدالت عظمیٰ میں وکلاء نے سابق جنرل صدر کے خلاف آئین کو توڑنے کے الزام میں دفعہ چھے کے تحت بغاوت کا مقدمہ چلانے کے لیے درخواست دائر کررکھی ہے لیکن ملکی آئین کے تحت صرف وفاقی حکومت ہی کسی کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلا سکتی ہے اور اس جرم کی سزا موت ہے۔

عبوری حکومت نے اپنے جواب میں مزید کہا ہے کہ اس کی بنیادی ذمے داری ملک میں آیندہ عام انتخابات کرانا ہیں،وہ ان کی تیاریوں میں مصروف ہے اور نئی حکومت منتخب ہونے کے بعد اس کا مینڈیٹ ختم ہوجائے گا۔اس لیے اس کو پرویزمشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کی سربراہی میں نگران حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ ''سابق صدر کے خلاف مقدمہ چلانے کی ابھی کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ اپنی توجہ روزمرہ کے امور کی انجام دہی تک ہی مرکوز رکھنا چاہتی ہے اور معاملات کو آیندہ منتخب حکومت تک جوں کا توں برقرار رکھنا چاہتی ہے''۔

مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے حکومت کے اس جواب پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ '' ہم آٹھ دن سے حکومت کی جانب سے جواب کے منتظر تھے اور اب اس کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتی ہے''۔

پرویز مشرف کے خلاف ماتحت عدالتوں میں نومبر 2007ء میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظربند کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ انھیں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل،بلوچ لیڈر اکبر بگٹی کی ایک فوجی کارروائی میں ہلاکت اور لال مسجد آپریشن کے دوران بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کے الگ الگ مقدمات کا سامنا ہے۔

ہفتے کے روز اسلام آباد میں قائم کی گئی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے انھیں پندرہ روز کے لیے جوڈیشیل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا جس کے بعد انھیں چک شہزاد میں واقع ان کی پرتعیش قیام گاہ ہی کو جیل قرار دے کر انھیں وہاں نظربند کردیا گیا ہے۔

لیکن ان کے ترجمان ان سے اس سلوک پر خوش نہیں اور انھوں نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ''سابق صدر کو صرف دوکمروں تک محدود کردیا گیا ہے اور انھیں ذاتی عملے سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ انھیں وکلاء تک رسائی کا بھی حق حاصل نہیں''۔

سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی ہے اور حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ سابق صدر کے وکلاء کو ان سے ملنے کی اجازت دیں۔کل سابق صدر کے وکلاء عدالت میں اپنے دلائل دیں گے۔دم تحریر سابق صدر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود وکلاء کو چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس میں پرویز مشرف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں