سرکاری خزانے سے مستفید پاکستانی صحافیوں کی فہرست جاری

سابق وزیراعظم آبائی ضلع کے صحافیوں کو نوازتے رہے، بیرون ملک سیرسپاٹے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

پاکستان کے قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ کے لیے ارباب اقتدار وسیاست تو بدنام ہیں ہی لیکن پارسائی کا دعویٰ کرنے والے صحافی حضرات بھی ان سے کسی طرح پیچھے نہیں رہے ہیں اور انھوں نے موقع ملنے پر حکومتوں سے حصہ بقدر جثہ وصول کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔

پاکستان میں حکومت خواہ جمہوری ہو یا مطلق العنان فوجی جرنیل سریرآرائے سلطنت ہو،وفاقی وزارت اطلاعات ہردور میں صحافیوں کی ہمدردیاں خریدنے کے لیے رقوم بانٹتی رہی ہے لیکن ماضی میں حکومت سے رقوم وصول کرنے والے ''بلند پایہ''صحافیوں کے نام کم ہی منظرعام پر آتے رہے ہیں۔اب کے عدالت عظمیٰ میں دومعروف صحافیوں کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر وفاقی وزارت اطلاعات نے رقوم لینے والے صحافیوں ،سابق حکمراں جماعت کے وفادار لکھاریوں اور اینکر پرسنز کی پندرہ صفحات کو محیط ایک لمبی چوڑی فہرست مرتب کرکے پیش کی ہے۔

ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وفاقی وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈز کی حکومت کے حامی صحافیوں میں تقسیم کرنے کی اس طرح کی کوئی فہرست منظرعام پر آئی ہے۔اس فہرست کو دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سابق ارباب اقتدار نے قومی خزانے سے اپنے ہم نوا صحافیوں کو نوازا تھا۔اس فہرست میں خاص طور پر تین چار صحافی حضرات کے نام بار بار آئے ہیں جنھیں کسی نامعلوم ''خصوصی اسائنمنٹ'' کے نام پر لاکھوں روپے دیے گئے ہیں۔

اس فہرست کو دیکھ کر یہ بھی پتا چلتا ہے کہ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے عوام کے ٹیکسوں کی رقوم کو ذاتی مفاد میں استعمال کرنے میں تیسری دنیا کے بدعنوان حکمرانوں کے ریکارڈز کو بھی مات دے دی ہے۔اور تو اور سابق وزیراعظم مقتولہ بے نظیر بھٹو کی کتاب کا ''مفاہمت'' کے نام سے اردو ترجمہ بھی وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈز سے چھپوایا گیا اور اس کے پبلشر کو سات لاکھ روپے کی رقم ادا کی گئی تھی۔گویا سابق حکمراں جماعت اتنی غریب تھی کہ وہ اپنی مرحومہ قائد کی کتاب چھپوانے کے لیے بھی رقم نہیں رکھتی تھی۔

وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈز سے زیادہ تر انھی صحافیوں اور کالم نگاروں کو وقتاً فوقتاً رقوم دی گئی تھیں جو ماضی میں سابقہ ارباب اقتدار کی مدح سرائی کر کے بھی دام وصولتے رہے ہیں۔ان میں ایک نمایاں نام بزرگ صحافی نذیر ناجی کا ہے۔وہ حکمرانوں کو اپنے شیشے میں اتارنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں اور میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت سے لے کر آصف زرداری تک وہ ہر حکمران کے قصیدے لکھتے اور ان سے مفادات حاصل کرتے آئے ہیں۔

اب وہ خود کو پاکستان کا سب سے زیادہ تنخواہ پانے والا ایڈیٹر /کالم نگار قرار دیتے ہیں لیکن دل اتنا غریب ہے کہ وہ لاہور سے اسلام آباد تک طیارے کا کرایہ اور قیام وطعام کا خرچ بھی خود برداشت نہیں کرسکتے اور قومی خزانے سے چند ہزار روپے لینے میں بھی انھیں کوئی سبکی محسوس نہیں ہوئی۔بیش قیمت پلاٹ اس رقم کے علاوہ ہیں۔

اسی قبیل کے صحافیوں میں ایک اور نمایاں نام اسداللہ غالب کا ہے۔یہ صاحب بھی ہردور حکومت میں وزارت اطلاعات یا صوبائی محکمہ اطلاعات کے خفیہ فنڈز سے رقوم وصولتے آئے ہیں۔انھیں جمہوریت کے گن گانے والی حکومت نے خفیہ فنڈز سے ڈھائی لاکھ روپے کی رقم عطیہ کی تھی۔

ملک کے ایک کثیرالاشاعت روزنامے سے وابستہ سنئیر صحافی صالح ظافر کو خصوصی اسائنمنٹس کے لیے چھے لاکھ روپے ادا کیے گئے۔اب نجانے وہ کس خصوصی اسائنمنٹ پر تھے کہ انھیں یہ خطیررقم دے دی گئی۔اس کے علاوہ وہ قریباً دوسال کے عرصہ میں وزیراعظم کے ساتھ بیرون ملک جانے والے ہر دورے میں شامل رہے تھے۔اس طرح وہ سرکاری خرچ پر فضائی سفر اور بیرون ملک قیام وطعام کے مزے اڑاتے رہے تھے۔

وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈز سے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کو دو تین مرتبہ تین ،تین لاکھ روپے کی رقوم دی گئی تھیں لیکن اس پریس کلب کو رقم دینے کی کچھ تو سمجھ آتی ہے کہ یہ وفاقی دارالحکومت میں واقع ہے مگر سابق وزیراطلاعات کے حکم پر صوبہ پنجاب کے ایک چھوٹے ضلع نارووال کے پریس کلب کو نجانے کس کھاتے میں بیس لاکھ روپے دے دیے گئے تھے۔

لیکن وزیراطلاعات نے ایسا کوئی غلط بھی نہیں کیا کیونکہ ان کے (برطرف) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی وزارت اطلاعات کے فنڈز سے اپنے آبائی ضلع ملتان کے صحافیوں کو نوازتے رہے اور انھیں نقد رقوم دینے کے علاوہ بیرون ملک دوروں پر بھی بطور خاص لے جاتے رہے اور تو اور ملتان پریس کلب کے صدر کی معرفت سے اسلام آباد آنے والے ایک عام آدمی کو بھی وزارت کے خرچے پر ایک مہنگے ہوٹل پر ٹھہرایا گیا تھا۔

عدالت عظمیٰ میں پیش کی گئی اس فہرست میں دو صحافیوں کے نام بار بار آئے ہیں۔ان میں ایک نجی ٹی وی چینل ''اپنا'' کے مالک سید سجاد شاہ ہیں۔انھیں متعدد مواقع پر مالی مدد ،قیام وطعام اور سفری اخراجات کے نام پر پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ ہزار سے دو ایک لاکھ روپے تک دیے جاتے رہے ہیں اور پندرہ صفحات کو محیط اس فہرست میں ان کا نام قریباً ہرصفحے میں موجود ہے۔

دوسرا نام صدر آصف علی زرداری کے وفادار ایک صحافی شعیب بھٹہ کا ہے۔انھیں مختلف اوقات میں لاکھ، لاکھ دو ،دولاکھ روپے دیے جاتے رہے۔موصوف روزنامہ طلوع کے نام سے ایک اخبار نکالتے ہیں۔اس کی اشاعت شاید سیکڑوں میں ہوگی یا شاید باقاعدہ چھپتا بھی ہے یا نہیں لیکن وہ قومی خزانے پر پل رہے ہیں اور انھیں گذشتہ حکومت نے ان کی ''قومی خدمات'' کے عوض اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں تمام قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ کر سرکاری مکان بھی الاٹ کردیا تھا۔

وزارت اطلاعات کے تحت پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ہردور میں بعض لکھاریوں/ صحافیوں کی حکمرانوں کے جائز وناجائز اقدامات کی حمایت میں مدح سرائی کے لیے خدمات حاصل کرتا ہے۔ان حضرات کا کام صدر یا وزیراعظم کے خلاف لکھنے والے کالم نگاروں کا جواب دینا بھی ہوتا ہے۔چنانچہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے فاروق سحر صدیقی نام کے ایک لکھاری کی خدمات حاصل کی تھیں اور انھیں وقتاً فوقتاً ڈیڑھ ایک لاکھ روپے دیے جاتے رہے ہیں۔حکمرانوں سے اپنی تحریروں کے دام پانے والے ان صاحب کا نام فہرست میں دوتین جگہ موجود ہے۔

طرفہ تماشا ملاحظہ ہو، یہ صاحب سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ان کے حق میں لکھا کرتے تھے۔وہ اپنی تحریروں میں ماضی میں پرویز مشرف کو اور اب موجودہ صدر آصف علی زرداری کو ارسطو سے لے کر ابراہام لنکن تک ایسے مدبروں کے پائے کے لیڈر اور دانشور ثابت کرتے رہے ہیں۔اگر ابوالفضل اور فیضی ان کی تحریریں پڑھ لیتے تو انھیں اپنا استاد مان لیتے۔یہ اچھا ہوا وہ کئی صدیاں پہلے گزر گئے لیکن قبروں میں ان کی روحیں خوش ہورہی ہوں گی کہ حکمرانوں کی مدح سرائی کے فن کو ان کے بعد آنے والے صحافتی بہروپیوں نے ماند نہیں پڑنے دیا اور اسے چرب زبانی کے بجائے زورقلم سے زندہ رکھا ہے۔

تین صحافیوں انگریزی روزنامہ ڈان کے ایم امین ،بشیراحمد خان اور زاہد عامر رانا نام کے صحافی کو نامعلوم تفویض کار کے لیے پانچ ،پانچ لاکھ روپے دیے گئے تھے۔ایسے ہی ایک اور نام علی احمد ڈھلوں کا ہے۔موصوف لاہور سے ''لیڈر'' نام کا ایک روزنامہ نکالتے ہیں۔انھیں بھی اسلام آباد میں قیام وطعام کے علاوہ سفر وحضر کے لیے قومی خزانے سے رقوم دی جاتی رہی ہیں۔وہ وقفے وقفے اسلام آباد تشریف لاتے رہے تھے اور سرکاری خرچ پر مہنگے ہوٹلوں میں قیام فرماتے رہے تھے۔

اس فہرست میں ایک نام دیکھ کر سیاست وصحافت سے دلچسپی رکھنے والے عام قارئین کو شاید حیرت ہو اور وہ نام موجودہ وزیراطلاعات جناب عارف نظامی کا ہے۔انھوں نے رقم تو نہیں لی تھی۔البتہ لاہور سے اسلام آباد وزیراعظم سے مشاورت کے لیے آنے جانے کا تمام خرچہ ان کی اسی موجودہ وزارت نے ادا کیا تھا۔

سابق حکومت نے اپنے حق میں لکھنے والے صحافیوں ہی کو نہیں نوازا بلکہ نجی ٹی وی چینلز اور اشتہاری کمپنیوں کو بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا خوب موقع فراہم کیا۔وزارت اطلاعات نے ایک نجی ٹی وی چینل سی این بی سی کو اس کے شو ''پاکستان دس ویک '' کے لیے ساڑھے تین کروڑ کی خطیر رقم دی تھی۔اس رقم کی منظوری سابق وزیراعظم نے دی تھی۔ایک معروف اشتہاری کمپنی میڈاس پرائیویٹ لیمٹیڈ کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے گانے کی تیاری کے لیے تین کروڑ ستر لاکھ روپے دیے گئے لیکن فہرست میں دس صحافیوں کی بیواؤں کے نام بھی شامل ہیں۔انھیں محض پینسٹھ ہزار روپے ماہانہ پر ہی ٹرخا دیا گیا۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ فہرست اے کے مطابق 7جولائی 2011 ء سے 25 مارچ 2013ء تک 282افراد اور اداروں میں 1,77,988,450 روپے کی رقم بانٹی گئی تھی۔ فہرست بی میں 174 افراد اور اداروں کے نام شامل ہیں۔ان میں 86813633 میں روپے تقسیم کیے گئے تھے ۔تاہم یہ فہرست قومی مفاد کے نام پر ابھی جاری نہیں کی گئی اور وزارت اطلاعات نے سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے اپنے جواب میں کہا ہے کہ اس کا آڈٹ بھی نہیں ہوسکتا۔اس پر سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل پاکستان سے جواب مانگ لیا ہے۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ فہرست اس لنک کو کلک کرکے ملاحظہ کی جاسکتی ہے:
http://www.supremecourt.gov.pk/web/user_files/File/Const.P.105of2012-22.04.13.pdf

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں