.

پرویز مشرف کی قیام گاہ کے نزدیک بارود سے بھری کار برآمد

حکام نے 40 کلوگرام بارود اور دستی بم قبضہ میں لے کر تفتیش شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی قیام گاہ کے نزدیک ہتھیاروں اور گولہ بارود سے لدی ایک کار برآمد ہوئی ہے۔

سابق فوجی صدر عدالت کے حکم پر اپنے پرتعیش گھر ہی میں پندرہ روز کے لیے جوڈیشیل ریمانڈ پر نظربند ہیں اور ان کی قیام گاہ کو حکام نے عارضی سب جیل قرار دے دیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق پرویز مشرف کی قیام گاہ کے نزدیک سے سوزوکی مہران کار کھڑی ہوئی ملی ہے۔اس میں چالیس کلوگرام دھماکا خیز مواد کے علاوہ دو ڈیٹونیٹر اور دستی بم رکھے ہوئے تھے۔سکیورٹی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے سابق صدر جنرل مشرف کو قتل کی دھمکی دے رکھی ہے۔ان کے علاوہ مشرف دور میں ایک فوجی کارروائی میں مارے گئے بلوچ لیڈر نوب اکبر بگٹی کے بیٹوں نے بھی اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کررکھا ہے جبکہ ان کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے قائدین بھی ان کی جان کو درپیش خطرے کے بارے میں خبردار کرتے چلے آرہے ہیں۔

اس وقت پرویز مشرف کے خلاف ماتحت عدالتوں میں نومبر 2007ء میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو معزول کرکے نظربند کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ انھیں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بم دھماکے میں قتل،بلوچ لیڈر اکبر بگٹی کی ایک فوجی کارروائی میں ہلاکت اور لال مسجد آپریشن کے دوران بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کے الگ الگ مقدمات کا سامنا ہے۔

گذشتہ ہفتے کے روز اسلام آباد میں قائم کی گئی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے انھیں پندرہ روز کے لیے جوڈیشیل ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد انھیں چک شہزاد میں واقع ان کی پرتعیش قیام گاہ پر نظربند کردیا گیا تھا اور اس کو عارضی سب جیل قرار دے دیا گیا تھا۔