بے نظیر بھٹو قتل کیس میں پرویزمشرف کی درخواست ضمانت مسترد

سابق صدر کے وکیل کی جانب سے کیس کی عدم پیروی پر عدالت عالیہ کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عدالت عالیہ لاہور کے ایک ڈویژن بنچ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں دائر کردہ ضمانت کی درخواست ان کے وکلاء کی عدم پیروی کی بناء پر مسترد کردی ہے۔

اس کیس کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پراسیکیوٹر چودھری ذوالفقار علی نے بتایا ہے کہ عدالت عالیہ کے راول پنڈی بنچ کے اس فیصلے کے بعد پرویزمشرف کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے عدالت عالیہ میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔عدالت عالیہ لاہور کے راول پنڈی بنچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی تو سابق صدر کے وکیل نے ان کی درخواست پر دلائل دینے کے لیے وقت مانگا لیکن عدالت نے انھیں ایک گھنٹے کا وقت دیا۔

مگر ان کے وکیل نے دلائل دینے کے بجائے عدالت سے مزید وقت مانگا اور کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔اس پر ایف آئی اے کے وکیل استغاثہ نے اعتراض کیا اور کہا کہ جنرل مشرف پہلے ہی جوڈیشیل ریمانڈ پر اپنے گھر پر زیر حراست ہیں۔اس لیے مزید وقت دینے کی ضرورت نہیں۔

سابق فوجی صدر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر اپنے پرتعیش گھر ہی میں پندرہ روز کے لیے جوڈیشیل ریمانڈ پر قید ہیں اور ان کی قیام گاہ کو حکام نے عارضی سب جیل قرار دے دیا ہے۔ان کے خلاف ماتحت عدالتوں میں نومبر 2007ء میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو معزول کرکے نظربند کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ ان کے خلاف سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں الگ سے مقدمہ چلایا جارہا ہے۔بے نظیر بھٹو27 دسمبر 2007ء کو راول پنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے بعد خودکش بم دھماکے میں قتل ہوگئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں