دُہری شہریت کیس: صدر زرداری، پرویزاشرف کو توہین عدالت کے نوٹسز

دُہری شہریت کیس کے فیصلے کی تعمیل نہ کرنے پر عدالت عظمیٰ کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم راجا پرویزاشرف کو دُہری شہریت کیس سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کے نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ،جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین ججوں پر مشتمل بنچ جمعرات کو اس کیس کی سماعت کرے گا۔عدالت نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے چئیرمین نیّرحسین بخاری ،چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم ،اٹارنی جنرل عرفان قادر اور سینیٹر عبدالرحمان ملک کو بھی توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔

سپریم کورٹ میں ان تمام سرکردہ شخصیات کے خلاف محموداختر نقوی ایڈووکیٹ نے مختلف درخواستیں دائر کی تھیں اور ان میں یہ استدعا کی تھی کہ عدالت انھیں عبدالرحمان ملک کو دوبارہ وزیرداخلہ مقرر کرنے اور سینیٹ کا رکن منتخب کرانے پر قصور وار قرار دے۔

گذشتہ ماہ فاضل عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے سبکدوش ہونے والی پارلیمان میں دُہری شہریت کے حامل ارکان کو نااہل قرار نہ دینے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات شروع نہ کرنے کے حوالے سے استفسار کیا تھا۔سپریم کورٹ میں یہ کیس زیرسماعت آنے کے بعد سابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے بعض ارکان نے استعفے دے دیے تھے اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہیں کی تھی۔

یادرہے کہ عدالت عظمیٰ نے گذشتہ سال دُہری شہریت کیس میں سابق وزیرداخلہ عبدالرحمان ملک کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی رُکنیت معطل کردی تھی۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ آئیں کی دفعہ 63 کے تحت عبدالرحمان ملک سینیٹ کا الیکشن لڑنے کے اہل نہیں تھے۔

ان سے برطانیہ کی شہریت واپس کرنے کا فارم طلب کیا گیا تھا لیکن ان کی جانب سے یہ دستاویزعدالت میں پیش نہیں کی گئی تھی لیکن انھوں نے برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق غیر واضح دستاویزات عدالت میں پیش کی تھیں۔ایک دستاویز میں مارچ 2008ء کی تاریخ دی گئی تھی۔پھر کہا گیا کہ انھوں نے اپریل 2008ء میں برطانیہ کی شہریت چھوڑ دی تھی۔

عدالت نے تب اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ ان کے پیش کردہ دونوں خطوط سے واضح ہے کہ ان کے شہریت چھوڑنے سے متعلق ڈیکلریشن موجود نہیں اور بادی النظر میں عبدالرحمان ملک نے جب سینیٹ کی رکنیت کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، تو اس وقت وہ برطانوی شہری تھے اوراس بنا پر وہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں تھے۔

عبدالرحمان ملک کی سینیٹ کی رکنیت کی معطلی کے بعد انھیں وزیراعظم کا مشیر برائے امور داخلہ بنایا گیا تھا۔اس دوران انھوں نے اچانک سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا مگر انھیں پھر سندھ سے بلا مقابلہ ایوان بالا کا رکن منتخب کرا لیا گیا تھا۔ وہ صدر آصف علی زرداری کے معتمد خاص سمجھے جاتے ہیں۔ انھیں سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں سابق وزیراعظم سے بھی بڑھ کر اہمیت دی جاتی تھی اور ماضی میں وہ وزیراعظم کے برابر پروٹوکول اور مراعات لیتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں