.

بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ لاہور جیل میں حملے میں شدید زخمی

خصوصی بیرک سے دوپہر کے کھانے کے لیے آتے ہوئے اینٹوں سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں دہشت گردی اور جاسوسی کے جرم میں قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ پر جیل میں ساتھی قیدیوں نے حملہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

جیل حکام کے مطابق سربجیت سنگھ پر جمعہ کی دوپہر کوٹ لکھپت جیل میں اینٹوں اور پلیٹوں سے اس وقت حملہ کیا گیا ہے جب وہ اپنی خصوصی بیرک سے دوپہر کے کھانے کے لیے آرہا تھا۔حملے میں اس کے سر میں شدید زخم آئے ہیں جس کے بعد اسے جناح اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بھارتی قیدی پر اس کے جیل کے ساتھیوں نے کیوں حملہ کیا ہے۔

سربجيت سنگھ کو سنہ 1990ء ميں لاہور اورملتان ميں بم دھماکو ں ميں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کيا گيا تھا۔ان بم دھماکوں ميں 14افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ایک پاکستانی عدالت نے اس بھارتی جاسوس کو بم دھماکوں کے جرم میں قصوروار قرار دے کر موت کی سزا سنائی تھی۔

چند ماہ قبل پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سربجیت سنگھ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا اور اس کو رہا کر کے واپس بھارت بھیجنے کی تیاری بھی کرلی گئی تھی لیکن بعض حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت کی وجہ سے سابق پاکستانی حکومت اپنے اس ارادے سے باز رہی تھی۔

پاکستان کی وفاقی وزارت قانون نے سربجيت سنگھ کو فوری طورپررہا کرنے کے لیے چند ماہ قبل وزارت داخلہ کو ایک سمری بھی بھیجی تھی۔تاہم لاہور اور ملتان میں بم دھماکوں میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور بعض تنظیمیں بھارتی دہشت گرد کی رہائی کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔