.

پاکستان میں انتخابی سرگرمیاں دہشت گردی کا نشانہ، متعدد ہلاکتیں

حکومت امیدواروں کی حفاظت کو یقینی بنائے: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے دفاتر اور جلسوں پر حملوں اور دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبہ سندھ اور خیبر پختونخواہ میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ایک بچی سمیت 5 افراد جاں بحق اور25 سے زائد زخمی ہوگئے، تاہم انتخابی مہم کو درپیش تمام خطرات کے باوجود پاکستانی الیکشن کمیشن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں انتخابات ہر صورت میں مقررہ وقت پر ہوں گے۔

پاکستان کے ساحلی شہر اور کاروباری مرکز کراچی میں اورنگی ٹاون کے علاقے کی قصبہ کالونی میں ساڑھے نو بجے کے قریب یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔ پہلا دھماکہ متحدہ قومی موومنٹ کے یونٹ آفس جبکہ دوسرا ایک امام بارگاہ کے قریب ہوا۔ ان دھماکوں میں تین افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ دھماکوں کے علاقے میں برقی رو کی ترسیل بند ہوگئی، اندھیرے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی میں لیاری کے علاقے کمہار واڑہ میں سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 11 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار عدنان بلوچ کے انتخابی جلسے میں ہونے والے دھماکے میں دو افراد جاں بحق اور این اے 249 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار عزیز میمن، صوبائی امیدوار عدنان بلوچ اور ان کے دو بھائیوں سمیت کئی افراد زخمی ہونے کا بتایا گیا۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے 'اے پی' نے کراچی پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان حملوں کے کچھ دیر بعد کراچی ہی کی گلبہار کالونی میں سیاسی جماعت کے دفتر پر کریکر حملہ کیا گیا۔ جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس طرح افغان سرحد کے قریب واقع پاکستانی علاقے شمالی وزیرستان میں آزاد امیدوار کا انتخابی دفتر کو تباہ کر دیا گیا۔ شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میران شاہ میں این اے 40 سے آزاد امیدوار عقل زمان کے انتخابی دفتر میں بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے سے عمارت تباہ ہوگئی تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ اس علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکومت سے حالیہ حملوں کی لہر اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسلام آباد حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابات میں شریک امیدواروں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ ایٹمی طاقت رکھنے ملک پاکستان کی ہنگامہ خیز تاریخ میں 11 مئی کے انتخابات کے بعد یہ منظر پہلی بار دیکھنے کو ملے گا جب عام انتخابات کے نتیجے میں ایک سویلین حکومت پر امن انداز میں اقتدار دوسری سویلین حکومت کو منتقل کرے گی۔