بلوچستان کے گیارہ اضلاع میں انتخابات کے موقع پر فوج تعینات

کور کمانڈرز کے خصوصی اجلاس میں فوج کی تعیناتی کے پلان کی حتمی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ گیارہ مئی جوں جوں قریب آ رہی ہے،اس کے ساتھ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں بھی تیزی آتی جارہی ہے اور وہ خاص طور پر تین صوبوں سندھ ،بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انتخابی امیدواروں ،ان کے دفاتر،ریلیوں اور جلسے ،جلوسوں کو بم حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں اوران کے بم دھماکوں میں روزانہ ہی دس پندرہ افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

دہشت گردی کے ان پے در پے واقعات کے پیش نظر سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے مقررہ وقت پر عام انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔صوبہ بلوچستان اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن وامان کی صورت حال سب سے زیادہ مخدوش ہے۔ان علاقوں میں طالبان نامی دہشت گردوں کے علاوہ مختلف جرائم پیشہ عناصر اور غیرملکی ایجنٹ بھی بروئے کار ہیں اور وہ اپنی تخریب کاری کی کارروائیوں میں انتخابی امیدواروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس صورت حال کے تناظر میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی صدارت میں سوموار کو کور کمانڈروں کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں آیندہ عام انتخابات کے موقع پر ملک میں امن وامان کی صورت حال اور مسلح افواج کی تعیناتی کا جائزہ لیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کور کمانڈروں نے کراچی سمیت ملک بھر میں عام انتخابات کے پرامن انداز میں انعقاد اور سکیورٹی کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے مسلح افواج کو تعینات کرنے کے پلان کی منظوری دے دی ہے۔

فوجی قیادت کے اس فیصلے سے قبل ہی صوبہ بلوچستان کے شورش زدہ نو اضلاع میں انتخابات کے پرامن اور بلا تعطل انعقاد کے لیے مسلح افواج کے دستوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔صوبائی محکمہ داخلہ کے حکام کے مطابق ضلع ڈیرہ بگٹی ،کوہلو ،آواران ،خضدار ،قلات ،مستونگ ،خاران اور گوادر میں فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ان کے علاوہ صوبے کے تمام تیس اضلاع میں فرنٹئیر کور کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔

حکام کے مطابق فوج اور ایف سی کے اہلکار پندرہ مئی تک پولنگ مراکز پر تعینات رہیں گے اور ان کی تعیناتی کا اختیار عبوری صوبائی حکومت کو ہوگا تاکہ رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں پولنگ کے پرامن اور احسن انداز میں انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔فوج اور ایف سی کے بائیس ہزار اہلکاروں کے ساتھ لیویز،بلوچستان کانسٹیبلری اور پولیس کے پچاس ہزار کے لگ بھگ اہلکاروں کو بھی امن وامان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے مذکورہ بالا اضلاع میں اتوار کو فوج اور ایف سی کے اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل شروع کر دیا گیا تھا اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے فوج کی نفری کو ضلع مستونگ روانہ کردیا گیا تھا۔درایں اثناء صوبے کے اسکول اساتذہ کے بعد لیکچراروں نے بدامنی کا شکار بارہ اضلاع میں پولنگ کے موقع پر فرائض انجام دینے سے انکار کردیا ہے جس سے صوبے میں عام انتخابات کا انعقاد ہی خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

بلوچستان گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ارکان سے آج ایک حکومتی وفد نے بائیکاٹ ختم کرانے کے لیے مذاکرات کیے ہیں لیکن اساتذہ کے نمائندوں نے بارہ میں سے صرف دواضلاع چاغی اور لسبیلہ میں پولنگ کے روز فرائض انجام دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور وہ باقی دس اضلاع میں ہمہ نوع دہشت گردوں کے حملوں کے خطرے کے پیش نظر فرائض انجام دینے کو تیار نہیں۔

تنظیم اساتذہ نے صوبائی گورنر نواب ذوالفقار مگسی اور نگران وزیراعلیٰ کے نام ایک خط بھیجا ہے جس میں انھوں نے قلات ،مستونگ، کیچ ،خضدار اور نوشکی سمیت گیارہ اضلاع میں اساتذہ کو دہشت گرد عناصر کی جانب سے ملنے والی مسلسل دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس صورت حال میں انتخابات کے لیے فرائض انجام نہیں دے سکتے ہیں کیونکہ ان کی جانوں کو سنجیدہ خطرات لاحق ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں مسلح علاحدگی پسند عناصر اور غیرملکی ایجنٹ پاکستان کے وفاق کے حامی سیاست دانوں اور ان کے حامیوں کو بم حملوں اور فائرنگ میں نشانہ بنا رہے ہیں اور گذشتہ ہفتے مسلم لیگ نواز کے صوبائی صدر سردار ثناء اللہ زہری کا بیٹا ،بھائی اور بھتیجا بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ اب دوسرے انتخابی امیدواروں کو بھی دہشت گرد عناصر کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں