.

پشاور میں دھماکا: سابق افغان وزیر کے بیٹے سمیت 8 افراد جاں بحق

یونیورسٹی روڈ پر ہونے والا دھماکا خود کش تھا؛ پولیس کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور میں سوموار کے روز دھماکے میں افغانستان کے سابق وزیر قاضی محمد امین وقود کے بیٹے قاضی ہلال امین سمیت کم از کم 8 افراد جاں بحق اور 43 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

گزشتہ روز دھماکوں کی زد میں رہنے والے خیبر پختونخوا میں پیر کی صبح یونیورسٹی روڈ پر ایک اور دھماکا ہوا جس سے افغانستان کے دو مرتبہ سابق وزیر اور نامور جہادی رہنما قاضی محمد امین وقود کے بیٹے قاضی ہلال امین اور ایک اور افغان شہری ادریس جاں بھق ہو گئے۔

یاد رہے ہلال احمد وقود افغان قونصل خانے کے ٹریڈ کمیشن کے رکن تھے جبکہ ادریس احمد پاکستان میں مہاجرین کے امور کے افغان وزیر کے ایلچی تھے۔ پشاور افغان قونصل جنرل سید محمد ابراہیم خیل کے مطابق افغان قونصل کے ارکان جو آپس میں کزن بھی تھے، اپنے گھر سے دفتر آرہے تھے کہ بم دھماکے کا نشانہ بن گئے۔

قاضی محمد امین، گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کے عسکریت پسند رہنما اور ان کے نائب تھے لیکن بعد ازاں انہوں نے اپنی پارٹی قائم کر لی تھی۔

سن 1992 میں انہیں مختصر دورانیے کے لیے وزیر مواصلات مقرر کیا گیا تھا جبکہ 2004 میں افغان صدر حامد کرزئی نے قاضی امین اقود نے انہیں وزہر انصاف مقرر کر دیا تھا، بعد میں وہ صدر کرزئی کے خلاف حزب اختلاف کے مرکزی رہنما بن گئے تھے۔ قاضی امین وقود طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کرنے والی افغان اعلیٰ امن کونسل کے رکن بھی تھے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملے میں ایک پولیس وین کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک مسافر بس کو بھی نقصان پہنچا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسافر بس کے پہنچتے ہی زوردار دھماکہ ہو گیا۔

دھماکے سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

خیبر ٹیچنگ اسپتال کے چیف ایگزیکٹو عمر ایوب نے آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال میں 43 زخمی زیر علاج ہیں۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عمران شاہد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایک موٹرسائیکل خودکش حملہ آور نے یہ دھماکہ کیا ہے تاہم اس کی تصدیق کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی معائنہ کریں گے۔

ایس ایس پی آہریشن نے کہا کہ دہشت گردوں نے خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے عوام کو نشانہ بنایا لیکن ہم انتخابات کے لئے سیکیورٹی کے بھرپور اقدامات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ پشاور کینٹ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خود کش تھا اور اس میں پانچ سے چھے کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، پولیس کو مشتبہ خود کش بمبار کے جسم کے کچھ حصے بھی ملے ہیں اور ہم اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی خود کش دھماکے کی تصدیق کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت پولیس کمشنر پشاور صاحبزادہ انیس مذکورہ علاقے سے گزر رہے تھے تاہم وہ محفوظ رہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی شمالی صوبے خیبر پختونخوا میں متعدد دھماکے ہوئے تھے جس میں انتخابی دفاتر اور گیارہ مئی سے ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں میں کم از کم نو افراد جاں بحق اور 56 زخمی ہو گئے تھے۔