.

عام انتخابات 11 مئی کو ہوں گے، کوئی شُبہ نہیں ہونا چاہیے: جنرل کیانی

جمہوریت، آمریت کی آنکھ مچولی سزا و جزا سے نہیں بلکہ عوامی آگہی سے ختم ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ [ان شاء اللہ تعالیٰ] عام انتخابات گیارہ مئی کو مقررہ وقت پر ہوں گے، ہمیں اس بارے میں کوئی شک وشُبہ نہیں ہونا چاہیے۔ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ میری نظر میں جمہوریت اور آمریت کی آنکھ مچولی کا اعصاب شکن کھیل صرف سزا اور جزا کے نظام ہی سے نہیں بلکہ عوام کی آگہی اور بھرپور شمولیت سے ہی ختم ہو سکتا ہے۔

وہ منگل کی شام جنرل ہیڈکوارٹرز راول پنڈی میں یوم شہداء کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریر میں انھوں نے ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے پیش نظر عام انتخابات کو ملتوی کرنے سے متعلق قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی اور پاک فوج کی جانب سے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''عام انتخابات ہمارے لیے درحقیقت ایک سنہری موقع ہیں اور ان کے ذریعے ہم ملک میں حقیقی جمہوری اقدار کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہم آگہی اور عوام کی شرکت کے ذریعے جمہوریت اور آمریت کے درمیان ہمیشہ کے لیے ایک حد فاصل قائم کر سکتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہم تمام لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں سے بلند ہو کر صرف دیانت داری، اخلاص، مسابقت اور میرٹ کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں تو پھر آمریت کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ ہماری بقاء حکومت کو عوامی نمائندگی کے حقیقی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے میں ہے لیکن یہ اسی وقت ہوگا جب ہم اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر وسیع تر عوامی مفاد میں فیصلے کریں گے۔

آرمی چیف نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئین میں وضع کردہ اپنے کردار کے مطابق آزادانہ، شفاف اور پرامن انتخابات کے انعقاد کا عزم کر رکھا ہے۔ انھوں نے پاکستانی عوام کو مخاطب ہو کر کہا کہ میں آپ کو یہ یقین دہانی بھی کرانا چاہتا ہوں کہ اس حمایت کا واحد مقصد ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ہر پاکستانی کی طرح پاکستان آرمی نے بھی گذشتہ پانچ سال کے دوران جمہوریت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ آیندہ عام انتخابات ملک کو بہتری کی جانب گامزن کریں گے۔ اب جبکہ منزل قریب ہے تو ہمیں کسی غلطی سے گریز کرنا چاہیے۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ہر نظام کی کامیابی عوام کی خواہشات اور امنگوں میں مضمر ہے۔ جمہوریت کی کامیابی قوم کی فلاح وبہبود میں پنہاں ہے۔ جمہوریت کا حقیقی پھل عوام کا تحفظ اور بھلائی ہے۔ ان کے بہ قول عام انتخابات کا انعقاد کوئی اختتام نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے موجودہ مصائب کے خاتمے کی جانب ایک قدم ہے۔ عام انتخابات کے ذریعے ہم نے اپنے بہت سے سوالوں کے جواب تلاش کرنے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ان میں سے ایک ہے۔

جنرل کیانی نے کہا کہ ہزاروں جانیں دہشت گردی کے ناسور اور انتہا پسندی کی نذر ہو چکی ہے۔ ان میں آرمی، رینجرز، ایف سی، پولیس، فرنٹئیر کانسٹیبلری، لیویز اور بے گناہ پاکستانی شامل ہیں۔ اگر ہم ان میں زخمیوں اور شہداء کے خاندانوں کو بھی شامل کر لیں تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے بیرونی دشمن اس آگ کے شعلوں کو بھڑکانے میں مصروف ہیں لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اس جنگ کی وجوہ کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں حالانکہ یہ پاکستان کے بہادر عوام ہیں جو اس جنگ کا ہدف ہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ جو لوگ ہتھیار بند ہیں اور آئین پاکستان اور جمہوری عمل کی مخالفت کرتے ہوئے صف آراء ہیں اور ہر طرح کی خونریزی کو جائز سمجھتے ہیں تو ان کے خلاف جنگ کس کی جنگ ہوگی؟ انھوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کی بہترین جمہوریتوں میں بھی ریاست کے خلاف باغیانہ تحریکوں سے کہیں رو رعایت نہیں برتی گئی۔ ان جنگوں میں عوام نے ہمیشہ مسلح افواج کی حمایت کی اور ان جنگوں کی ملکیت سے متعلق کبھی کوئی سوالات پیدا نہیں ہوئَے تھے۔

پاک فوج کے سربراہ نے قوم کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ قوم میں واپس آ جائیں اور غیر مشروط طور پر ریاست کے سامنے سرنگوں ہو جائیں، اس کے آئین اور قانون کی حکمرانی کا احترام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والوں کے بارے میں کسی کو شک میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

انھوں نے اپنی تقریر میں وطن کے دفاع میں لڑتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں دینے والے دوسرے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔