.

عمران خان کی سیکیورٹی خدشات سے بے پروا دھواں دھار انتخابی مہم

سیاسی مخالفین کی بلٹ پروف ڈائس سے عوامی جلسوں میں تقریریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بُلٹ پروف شیشے کے پیچھے چھپ کر انقلاب کی قیادت نہیں کی جا سکتی، کم ازکم تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان یہی سمجھتے ہیں، جو آئندہ حکومت سازی میں ’کینگ میکر‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔

تھکن عمران خان کے چہرے سے عیاں ہے۔ وہ آج کل روزانہ پندرہ گھنٹے انتخابی مہم کے لیے صرف کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے ملک بھر میں جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ سابق کرکٹر خان ملک کے ہر کونے تک پہچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان کے مطابق اس وقت عوام کی توجہ حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ عمران خان کا پنجاب میں سخت انتخابی مہم شروع کرنے بعد نیوز ایجنسی 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انقلاب رونما ہو رہا ہے۔

صوبہ پنجاب پاکستانی سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور قومی اسمبلی میں آدھی سے زیادہ نشستیں اسی صوبے کے ارکان کے پاس رہتی ہیں۔

پاکستان کے دیگر سیاستدانوں کے برعکس 60 سالہ عمران خان سخت سکیورٹی کے بغیر ہی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، اس بارے میں ان کا کہنا ہے، ’’جب میں 17 برس پہلے سیاست میں آیا تھا تو اسی وقت میں نے موت کا خوف دل سے نکال دیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ میں جمود کے شکار معاشرے کو چیلنج کرنے جا رہا ہوں‘‘۔

اس کے باوجود عمران خان سکیورٹی خطرات سے آگاہ ہیں۔ خان کہتے ہیں کہ وہ ہٹ لسٹ پر پانچویں نمبر پر ہیں۔ ان کے مطابق وہ عوامی ریلیوں میں دیگر سیاستدانوں کی طرح بُلٹ پروف شیشے کی اسکرین تو استعمال نہیں کر رہے لیکن مسلح پولیس کے ہمراہ اور بُلٹ پروف گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔

سکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تحریک انصاف کی ریلی منسوخ کر دی گئی ہے۔ گزشتہ اتوار کو کراچی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین پر ہونے والے حملوں میں کم از کم 20 افراد مارے گئے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران ابھی تک تقریباﹰ 60 افراد مارے جا چکے ہیں۔

عمران خان کے اپنی سابقہ اہلیہ جمائما خان (ارب پتی ٹائکون جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی) سے دو بیٹے ہیں اور خان کئی مہینوں سے ان سے بھی نہیں مل پائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرا بڑا بیٹا فکرمند رہتا ہے، ظاہر ہے پریشانی لاحق ہو ہی جاتی ہے، جب وہ پاکستان کے حالات کے بارے میں سنتا ہے‘‘۔

پاکستان میں اس وقت صرف دو سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی بڑی انتخابی ریلیوں کا انعقاد کر رہی ہیں۔ گزشتہ پانچ برس پاکستان پر حکومت کرنے والی تین بڑی سیاسی جماعتیں اے این پی، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی طالبان کے براہ راست حملوں اور دھمکیوں کے باعث انتخابی ریلیوں کا انعقاد محدود کر چکی ہیں۔

عمران خان کہتے ہیں کہ اگر ان کی سیاست روایتی سیاستدانوں سے مختلف ہے تو انہیں بلٹ پروف شیشوں کے پیچھے کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ عمران خان یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر اسلوب حکمرانی اور تعلیم کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ توانائی کے بحران کو حل کرنے اور ٹیکس اصلاحات متعارف کرائیں گے۔

تحریک انصاف اس وقت ابھرتی ہوئی مڈل کلاس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جو سماجی طور پر قدامت پسند ہے۔ عمران خان کے ناقدین اسے ’طالبان خان‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس کی وجوہات ان کی امریکا پر تنقید اور عسکریت پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھنا قرار دیا جاتا ہے۔

عمران خان کو یقین ہے کہ وہ پاکستان کے آئندہ وزیراعظم ہوں گے لیکن تجزیہ کاروں کے نزدیک وہ 342 رکنی نیشنل اسمبلی میں 10 سے 30 سیٹیں حاصل کر پائیں گے۔ یہ بھی ایک ایسی پیشرفت ہو گی، جو انہیں کِنگ میکر بنا سکتی ہے۔