.

صوبہ سندھ اور بلوچستان میں انتخابی امیدواروں پر بم حملے

ضلع ہرنائی میں جے یوآئی کی ریلی پر راکٹ حملے میں 10 افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے مہم کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور بدھ کو صوبہ سندھ کے ضلع شکار پور میں ایک انتخابی امیدوار پر خودکش حملہ کیا گیا ہے۔صوبہ بلوچستان میں ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کی ریلی پر راکٹ حملے اورایک انتخابی دفتر پر دستی بم کے حملے میں چودہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے 400 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ضلع شکارپور میں نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) کے انتخابی امیدوار محمد ابراہیم جتوئی کی کار کے نزدیک موٹر سائکل پر سوار بمبار نے خود کو دھماکے میں اڑا دیا۔وہ اس خودکش حملے میں بال بال بچ گئے ہیں اور صرف دو راہگیر زخمی ہوئے ہیں۔

ابراہیم جتوئی اس وقت ایک انتخابی ریلی میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔ضلعی پولیس سربراہ غلام اظفر نے ان پر خود کش حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ حملے میں چھے کلو گرام وزنی دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں جنگجو گروپ اپنے نظریاتی وسیاسی مخالفین کو خودکش بم حملوں میں نشانہ بناتے رہتے ہیں لیکن اندرون سندھ کے کسی ضلع میں اس طرح کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے۔

ادھر جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے انتخابی دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا ہے جس سے چار کارکنان زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ کی ارباب غلام علی روڈ پر واقع مسلم لیگ ن کے رہ نما حاجی لشکری رئیسانی کے انتخابی دفتر پر موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے دستی بم پھینکا اور فرار ہوگئے۔تاہم حملے میں حاجی لشکری رئیسانی محفوظ رہے ہیں۔وہ کوئٹہ سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی چار سے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑرہے ہیں۔وہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی ہے۔

اسی صوبے کے ضلع ہرنائی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (جے یوآئی) کی ایک انتخابی ریلی کے قریب راکٹ گرنے سے دس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ضلعی حکام کے مطابق جے یوآئی کی ریلی پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے360 کلومیٹر دور ایران اور افغانستان کی سرحد سے مشرق کی جانب واقع شہر ہرنائی میں راکٹ حملہ کیا گیا ہے اور نامعلوم افراد نے ایک درجن سے زیادہ راکٹ داغے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس راکٹ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن ہرنائی کے ڈپٹی کمشنر یاسرخان کے مطابق بظاہر اس حملے میں ریلی کی حفاظت پر مامور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں 11 اپریل کے بعد سیاست دانوں ،انتخابی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے جلسے، جلوسوں پر بم حملوں میں ساٹھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔کراچی ، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بالخصوص کم وبیش روزانہ ہی تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور ان حملوں کے پیش نظر بعض سیاسی جماعتیں ان علاقوں میں انتخابات کے موقع پر فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔