سابق فوجی صدر پرویز مشرف سے اکبر بگٹی قتل کیس کی تفتیش

بلوچستان پولیس کے تین اعلیٰ افسروں پر مشتمل ٹیم کی پوچھ گچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستانی پولیس نے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف سے 2006ء میں پاک فوج کی ایک کارروائی میں بلوچ سردار اور صوبہ بلوچستان کے سابق گورنر اور وزیر اعلیٰ نواب اکبر بگٹی کے قتل کیس میں پوچھ گچھ کی ہے۔

اکبر بگٹی قتل کیس کے پراسیکیوٹر حسن کاکڑ نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے تین سینئر پولیس افسروں پر مشتمل ٹیم پرویزمشرف سے تحقیقات کررہی ہے اور وہ اس کیس میں ان کا بیان قلم بند کریں گے۔انھوں نے بتایا کہ جمعرات کو سابق صدر سے اس کیس سے متعلق پہلی مرتبہ پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

یادرہے کہ بلوچ رہ نما نواب اکبر بگٹی سابق جنرل صدر کے حکم پر ضلع ڈیڑہ بگٹی میں ایک فوجی کریک ڈاؤن کے دوران 26 اگست، 2006ء کو ایک غار میں مارے گئے تھے۔ان کے قتل کے الزام میں سابق صدر اور ان کے ساتھ شریک اقتدار شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

وہ اس وقت اسلام آباد میں اپنے محل نما فارم ہاؤس میں نظر بند ہیں اور ان سے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس اور 2007 ء میں ایمرجنسی کے نفاذ اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی برطرفی سے متعلق کیسوں کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔

گذشتہ جمعرات کو پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملزم پرویز مشرف کو بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا تھا۔ان کے خلاف پیپلز پارٹی کی سابق سربراہ کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

بے نظیر بھٹو27 دسمبر 2007ء کو راول پنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے بعد خودکش بم دھماکے اور فائرنگ میں قتل ہوگئی تھیں۔تب جنرل پرویز مشرف ملک کے صدر تھے۔انسداددہشت گردی کی عدالت نے فروری 2011ء میں انھیں اس کیس میں ماخوذ قرار دیا تھا۔

سابق فوجی صدر اس وقت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر اپنے پرتعیش گھر ہی میں پندرہ روز کے جوڈیشیل ریمانڈ پر قید ہیں اور ان کی قیام گاہ کو حکام نے عارضی سب جیل قرار دے رکھا ہے۔ گذشتہ ماہ بیرون ملک سے پاکستان واپسی کے بعد سے انھیں عدالتوں میں گھسیٹا جارہا ہے اور انھیں پہلی مرتبہ اپنی شاہانہ زندگی میں اس طرح کی صورت حال کا سامنا ہورہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں