عام انتخابات کے موقع پر مسلح افواج کے 70 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے

ملک بھر میں پولنگ کی آرمی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ گیارہ مئی کو عام انتخابات کے انعقاد کے موقع پر مسلح فورسز کے کم سے کم 70ہزار اہلکاروں کو چاروں صوبوں میں تعینات کیا جائے گا۔

انھوں نے جمعرات کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں ایک نیوزکانفرنس میں بتایا کہ پولنگ کے روز سیکورٹی کی نگرانی کے لیے آرمی ہیڈکوارٹر میں ایک سیل قائم کیا جائے گا اور پولنگ کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے آرمی کے علاوہ رینجرز، ایف سی اور پولیس اہلکار تعینات ہوں گے اور آرمی ایوی ایشن ملک بھر میں 50 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پولنگ کے عمل کی نگرانی کرے گی۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک کے مختلف علاقوں میں انتخابی امیدواروں اور ان کے حامیوں پر حملوں کے پیش نظر عام انتخابات کے پرامن اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت فوج کو تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔تین صوبوں کی نگران حکومتوں نے بھی فوج کی تعیناتی کی درخواست کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ فوجی دستوں کی تعیناتی کا عمل جاری ہے۔ان کے علاوہ مزید ہزاروں دستے ہمہ وقت چوکس رہیں گے اور کسی بھی جگہ گڑ بڑ کی صورت میں ان کو طلب کیا جاسکے گا۔انھوں نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں فوج کی تعیناتی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا ،کراچی اور سندھ کے دوسرے حصوں اور پنجاب میں پانچ مئی تک فوجی دستوں کو تعینات کر دیا جائَے گا۔

پاک آرمی کے جوان بیلٹ پیپرز کو چھاپہ خانوں سے پولنگ مراکز اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسروں تک پہنچانے کا کام بھی کریں گے ۔بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام 19 اپریل سے جاری ہے اور اس کی نگرانی کے لیے پہلے ہی اسلام آباد،کراچی اور لاہور میں سرکاری چھاپہ خانوں کے باہر فوج تعینات ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ گیارہ مئی قریب آنے کے ساتھ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں بھی تیزی آ چکی ہے اور وہ خاص طور پر تین صوبوں سندھ ،بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انتخابی امیدواروں ،ان کے دفاتر،ریلیوں اور جلسے، جلوسوں کو بم حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ تشدد کے واقعات میں روزانہ دس پندرہ افراد ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔

کراچی کے علاقے برنس روڈ پر جمعرات کو رات سوا نو بجے کے قریب متحدہ قومی موومنٹ کے سیکٹر آفس اور انتخابی دفتر کے قریب دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے خودساختہ جلاوطن قائد الطاف حسین نے اپنے جماعت کے دفتر بم حملے کی مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں