پاک ۔ افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، دو فوجی زخمی

افغانستان برطانوی دور کی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان اور افغانستان سرحد پر پر فائرنگ کے تبادلے میں ایک افغان پولیس اہلکار ہلاک اور دو پاکستانی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ متنازع سرحد پر بدھ کے روز دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے کے بعد افغان فوج کے اضافی دستے سرحد پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔

پاکستانی حکام نے الزام لگایا ہے کہ افغان نیشنل آرمی (اے این اے) نے ان کی ایک سرحدی چوکی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔

ملک کے شمال مغربی علاقے کے ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی حکام نے نے بتایا کہ اے این اے کے دستوں نے مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے فائرنگ کی جس کے بعد مہمند کے قبائلی علاقے میں پاک افغان سرحد پر دو گھنٹے سے زائد فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ اے این اے نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، فائرنگ سے ہمارے دو اہلکار زخمی ہو گئے اور ہم اس معاملے کو مناسب فورم پر اٹھائیں گے۔

افغان سرحد کے ساتھ واقع ضلع مہمند کے ایک انتظامی آفیشل نے فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ علاقے میں ایمبولینس بھیج دی گئی ہیں۔

ایک عرصے سے جاری سرحد پار حملوں کا یہ تازہ واقعہ ہے جہاں پاکستان اور افغان حکام ایک دوسرے کو واقعے کی ابتدا کرنے کا ذمے دار ٹھہراتے رہے ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ افغانستان میں طالبان اور دیگر باغی دھڑوں کی حمایت سے بھری پڑی ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان افغانستان پر سرحد پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

حال ہی میں ہونے والے تناؤ کی وجہ پاکستان کی جانب سے بنایا جانے والا ملٹری گیٹ ہے جس کے بارے میں افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ افغانستان کے اندر واقع ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے نے اپنے حکام کو اس دروازے سمیت ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی فوج کی کسی قسم کی تنصیبات کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے تمام تر اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔

سن 1893 میں برطانیہ نے دونوں ملکوں ی سرحد کو ڈیورنڈ لائن کا نام دیا تھا جسے پاکستان نے تسلیم کیا تھا لیکن افغانستان اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں