.

بلاول بھٹو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بیرون ملک چلے گئے

سابق صدر پرویز مشرف کی جماعت نے عام انتخابات کا بائیکاٹ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بیرون ملک چلے گئے ہیں اور وہ گیارہ مئی کو عام انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے۔

پی پی پی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بلاول ملک سے باہر جا چکے ہیں اور وہ الیکشن مہم کے دوران کسی بھی جلسے یا کارنر میٹنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔پارٹی ذرائع کے مطابق، وفاقی وزارت داخلہ نے بھی ملک میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر پیش نظر بلاول کو جلسوں میں خطاب سے منع کیا تھا۔

سابق حکمران جماعت کے ایک مرکزی رہنما تاج حیدر نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی نے سنگین سیکیورٹی خدشات کی بنا پر فیصلہ کیا ہے کہ بلاول بہ ذات خود الیکشن مہم نہیں چلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم پہلے ہی بے نظیر بھٹو کو کھو چکے ہیں اور اب بلاول کو کھونے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ ان کی زندگی کو لاحق خطرات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں''۔

تاج حیدر نے یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت کہاں موجود ہیں، تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس ہفتے کے شروع میں پاکستان سے چلے گئے۔

تاہم بعض تجزیہ کاروں کے بہ قول پیپلز پارٹی کے سنئیر رہ نماؤں نے جماعت کی سبکدوش ہونے والی کرپشن آلود حکومت کی خراب کارکردگی کے پیش نظر بلاول بھٹو زرداری کو عام انتخابات کے لیے مہم میں نہ اتارنے کا مشورہ دیا تھا۔ان کی یہ دلیل تھی کہ پی پی پی کی شکست کی صورت میں ان کے مستقبل کے لیڈر کی شخصیت اور سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پی پی پی کی قیادت اب تک عام انتخابات کے لیے مہم میں سرگرم نظر نہیں آرہی ہے اور اس نے میڈیا میں اپنے مخالف سیاست دانوں کے خلاف اشتہار بازی پر ہی اپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے۔ملک کے قومی اخبارات میں بلند بانگ دعووں پر مبنی پورے پورے صفحے کے اشتہارات شائع کرائے جارہے ہیں جبکہ اس کے مدمقابل جماعتوں مسلم لیگ نواز ،تحریک انصاف ،جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام نے بھرپو انداز میں اپنی اپنی انتخابی مہم جاری رکھی ہوئی ہے اور عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کی شکست کے واضح آثار نظرآرہے ہیں۔

پرویزمشرف کی پارٹی کا بائیکاٹ

درایں اثناء سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ نے گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔

جماعت کے ترجمان ڈاکٹرمحمد امجد نے اسلام آباد میں نیوزکانفرنس میں بتایا کہ سابق صدر کے چاروں صوبوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے اور ان پر سیاست میں تاحیات پابندی عاید کیے جانے کے بعد عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ جنرل مشرف اپنے خلاف عاید کردہ تمام الزامات کا سامنا کریں گے اور وہ ملک سے بھاگیں گے نہیں۔

ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نےعام انتخابات کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، کراچی ،قصور اور چترال سے قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھےلیکن ان چاروں حلقوں سے ان کے کاغذات مسترد اور ان کی نظرثانی کی اپیلیں بھی خارج کردی گئی تھیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے شمال مغربی ضلع چترال کے حلقہ این اے 32 سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف دائر کردہ اپیل کی سماعت کے بعد ان پر تاحیات انتخابی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عاید کردی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سابق صدر نے تین مرتبہ آئین توڑا اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو معزول کر کے قید کیا تھا۔اس لیے وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے ہیں۔

چاروں حلقوں میں سابق فوجی صدر کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران ان پر آئین سے انحراف ،منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کومعزول اورنظربند کرنے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔اِس کے علاوہ ان پر یہ بھی اعتراض کیا گیا تھا کہ وہ 2007ء میں لال مسجد آپریشن کے دوران بے گناہ افراد کے قتل میں بھی ملوث تھے اور وہ آئین کی دو دفعات 62 اور63 کے تحت پارلیمان کی رکنیت کے لیے درکار اہلیت کے حامل نہیں ہیں۔ان اعتراضات کے بعد انھیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

سابق صدر مارچ میں پاکستانی طالبان کی جانب سے قتل کی دھمکیوں اور اپنے خلاف عدالتوں میں دائر مقدمات کے باوجود عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے قریباً پانچ سال کی خودساختہ جلاطنی ختم کرکے وطن لوٹے تھے لیکن انھیں قومی اسمبلی کے چاروں حلقوں سے انتخابات سے قبل ہی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور اب ان کے خلاف عدالتوں میں چار بڑے مقدمات زیر سماعت ہیں۔اس وقت وہ اسلام آباد میں اپنے محل نما فارم ہاؤس میں قید ہیں۔