.

بین کی مون اورسلامتی کونسل کے مستقل نمایندوں کا شامی بحران پر تبادلہ خیال

شام کے لیے عالمی ایلچی الاخضرالابراہیمی کی اسی ماہ مستعفی ہونے کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے سفارت کاروں نے شامی بحران کے خاتمے کے لیے ممکنہ سفارتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

بین کی مون کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے بتایا کہ اجلاس میں شامی بحران کے حل کے لیے ممکنہ سفارتی اقدامات پر غور کیا گیا ہے اور سیکرٹری جنرل نے شام میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور بالخصوص کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے مشن کے حوالے سے بریف کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے نمائندوں نے سیکرٹری جنرل سے شام کے بارے میں اپنی ملاقات کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان شامی تنازعے پر اختلافات کی وجہ سے سلامتی کونسل اب تک کوئی کردار ادا نہیں کرسکی ہے۔

اب بعض سفارت کاروں نے شامی بحران کے حل کے لیے ''جنیوا 2'' اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ عالمی طاقتیں شام میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے کسی فارمولے پر متفق ہوسکیں۔

اقوام متحدہ میں متعین سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ شام کے لیے عالمی ادارے اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی الاخضر الابراہیمی استعفے پر بھی مذکورہ اجلاس میں غور کیا گیا ہے۔عالمی ایلچی اب اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں کیونکہ وہ شامی بحران کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی ڈیڈلاک سے مایوس ہوچکے ہیں۔

سلامتی کونسل میں متعین ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ '' الاخضر الابراہیمی اپنے عہدے سے مستعفی ہورہے ہیں لیکن میں یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ کب مستعفی ہوں گے''۔اس سفارت کار کے بہ قول اب بین کی مون پر زوردیا جارہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر شامی تنازعے کو طے کرنے کے لیے کوششیں کریں''۔

نیویارک میں العربیہ کے نمائندے نے جمعرات کو بعض سفارت کاروں کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ الابراہیمی مئی کے آخر تک اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے''۔ان کے استعفے کی افواہیں گذشتہ ایک ماہ سے گردش کررہی ہیں۔اس دوران ایک مرتبہ وہ ان افواہوں کی تردید بھی کرچکے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ الاخضر الابراہیمی شام کے لیے صرف اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے ہی مستقبل میں خدمات انجام دینا چاہتے ہیں اور ان کا عرب لیگ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا کیونکہ وہ عرب تنظیم کی جانب سے شامی حزب اختلاف کی حمایت اور اس کو نشست دینے سے دلبرداشتہ ہوئے ہیں۔اس اقدام سے ان کی شامی بحران کے حل کے لیے امن کوششوں کو دھچکا لگا ہے اور ان کی غیر جانبدارانہ حیثیت متاثر ہوئی ہے۔

ایک سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:''عالمی ایلچی محسوس کرتے ہیں کہ عرب لیگ کی حکمت عملی سے ان کے لیے اپنے مینڈیٹ کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کے لیے ان کا صرف اقوام متحدہ سے تعلق ہی کافی ہوگا اور انھیں شام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا خصوصی نمائندہ مقرر کیا جاسکتا ہے''۔

یادرہے کہ بین کی مون نے گذشتہ سال الجزائر کے سابق وزیرخارجہ اور تجربہ کار بزرگ سفارت کار الاخضرالابراہيمی کو اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی جگہ شام کے لیے عالمی ادارے اور عرب لیگ کا خصوصی ایلچی مقرر کیا تھا۔