.

کراچی میں فائرنگ سے اے این پی کے انتخابی امیدوار بیٹے سمیت قتل

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 254 کا الیکشن ملتوی کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے امیدواروں اور سیاسی کارکنان پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے قومی اسمبلی کے ایک امیدوار صادق زمان خٹک اور ان کے تین سالہ بیٹے کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے بلال کالونی میں موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے ایک مسجد کے نزدیک اندھا دھند فائرنگ کردی۔اس وقت نمازی جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے واپس گھروں کو جا رہے تھے۔

کراچی کے سینئر پولیس افسر عمران شوکت نے بتایا کہ صادق زمان اپنے تین سالہ بیٹے کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کر کے آ رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔اے این پی کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ صادق زمان خٹک کوقتل کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔

مقتول خٹک کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 254 سے اے این پی کے امیدوار تھے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کے قتل کے بعد اس حلقے میں انتخاب ملتوی کردیا ہے۔کراچی میں فائرنگ کے ایک اور واقعے میں پاپوش نگر میں نامعلوم مسلح افراد نے متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کے ایک کارکن کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کسی نامعلوم مقام سے اپنے جاننے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے امیدوار پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔انھوں نے کہا کہ صادق زمان خٹک پر فائرنگ ٹی ٹی پی کی جانب سے سیکولر جماعتوں پر اعلان کردہ حملوں کا ہی تسلسل ہے۔

واضح رہے کہ ٹی ٹی پی نے پاکستان پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پر حملوں کا اعلان کررکھا ہے اور گذشتہ روز اس جنگجو تنظیم نے صوبہ خیبرپختونخوا میں اول الذکر دونوں جماعتوں کے امیدواروں اور حامیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے گھروں پر لگے پارٹی جھنڈے اتار دیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں 11 اپریل کے بعد سیاست دانوں ،انتخابی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے جلسے، جلوسوں پر بم حملوں اور فائرنگ میں ستر سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔کراچی ، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بالخصوص کم وبیش روزانہ ہی تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور ان حملوں کے پیش نظر حکومت کی درخواست پر چاروں صوبوں کے حساس علاقوں میں انتخابات کے موقع پر مسلح افواج کے ستر ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔