بھارت میں بہیمانہ تشدد سے شدید زخمی پاکستانی قیدی کی حالت تشویشناک

جموں جیل میں سابق بھارتی فوجی کا سربجیت سنگھ کا بدلہ چکانے کے لیے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے زیرانتظام مقبوضہ ریاست جموں کی مرکزی جیل میں ساتھی قیدی کے بہیمانہ تشدد سے شدید زخمی ہونے والے پاکستانی ثناء اللہ کی حالت بدستور تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ثناء اللہ کی حالت بدستور تشویش ناک ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔اس سے پہلے بعض میڈیا ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے ہیں۔انھیں جموں جیل میں جمعرات کو ان کے ایک ساتھی قیدی نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد ان کو تشویش ناک حالت کے پیش نظر مشرقی پنجاب کے شہر چندی گڑھ کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔

جموں کے محکمہ جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر کے راجندرا کا کہنا ہے کہ ''پاکستانی قیدی اور ایک سابق بھارتی فوجی ونود کمار کے درمیان لڑائی ہوگئی تھی۔دونوں ہی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے''۔

ثناءاللہ کوشدید زخمی حالت میں پہلے جیل سے جموں کے میڈیکل کالج اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔اس کے بعد انھیں ایک فضائی ایمبولینس کے ذریعے چندی گڑھ میں پوسٹ گریجوایٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ منتقل کردیا گیا۔ان کے سر میں گہری چوٹیں آئی ہیں،وہ قومے میں ہیں اور ان کو مصنوعی تنفس کے سہارے زندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پاکستانی قیدی کو 26 اپریل کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ پر ساتھی قیدیوں کے حملے کے ردعمل میں مبینہ طور پر بلاوجہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔سربجیت سنگھ چند روز موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد گذشتہ جمعرات کو دم توڑ گیا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارت کے زیر انتظام جموں کی جیل میں پاکستانی قیدی پر حملے کو بھارتی قیدی کی ہلاکت کی"واضح جوابی کارروائی" قرار دیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان عزیز احمد چودھری نے آج ایک بیان میں بھارت پر زوردیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

جموں جیل میں حملے میں شدید زخمی ہونے والے ثناء اللہ کا تعلق پنجاب کے ضلع سیالکوٹ سے ہے۔ان کے خاندان اور ہمسایوں نے ان پر حملے کی اطلاع ملنے کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔انھوں نے ٹائر جلا کر شاہراہ بند کردی اور بھارت مخالف نعرے بازی کی۔

ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ انھیں بھارتی حکومت سے زیادہ پاکستانی حکام سے گلہ ہے کیونکہ انھوں نے ان سے ہمدردی کے دو بول بھی گوارا نہیں کیے۔ واضح رہے کہ بھارتی جاسوس سربجیت کی بھارت میں آخری رسومات میں دوسروں کے علاوہ حکمراں جماعت کانگریس کے سرکردہ لیڈر راہول گاندھی نے بھی شرکت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں