کراچی میں ایم کیوایم مرکز کے نزدیک دو بم دھماکے،3 افراد جاں بحق

کوئٹہ میں جماعت اسلامی کے انتخابی دفتر پر دستی بم کے حملے میں دوافراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے عزیز آباد میں لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے مرکز نائن زیرو کے نزدیک ہفتے کی رات وقفے وقفے سے دوبم دھماکے ہوئے ہیں جن میں تین افراد جاں بحق اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں بم حملوں میں بظاہر ایم کیو ایم کے مرکز کے نزدیک واقع اس کے ایک انتخابی دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آواز دوردور تک سنی گئی اور ان سے متعدد قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور وہاں کھڑی گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔

ایم کیو ایم کے ایک رہ نما واسع جلیل نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں دھماکے ان کی جماعت کے سیکٹر دفتر کے نزدیک ہوئے ہیں۔فوری طور پر کسی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

دھماکوں کے فوری بعد علاقے میں بجلی منقطع ہوگئی جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آئی ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ادھر صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے جماعت اسلامی کے ایک انتخابی دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا ہے جس سے دوافراد زخمی ہوگئے ہیں۔کوئٹہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس فیاض سنبل نے بتایا کہ دوجنگجوؤں نے گیلانی روڈ پر واقع جماعت کے انتخابی دفتر میں بم پھینکا تھا اور دونوں حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

گذشتہ روز کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے قومی اسمبلی کے ایک امیدوار صادق زمان خٹک اور ان کے تین سالہ بیٹے کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 254 میں انتخاب ملتوی کردیا گیا ہے۔

درایں اثناء عوامی نیشنل پارٹی کے رہ نما اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ انتخابی امیدواروں پر حملوں اور امن وامان کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ان کی جماعت کے لیے انتخابی نتائج قابل قبول نہیں ہوں گے۔انھوں نے پشاور میں آج ایک نیوزکانفرنس کے دوران عام انتخابات کے لیے سکیورٹی پلان ترتیب نہ دینے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان اور عبوری حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں 11 اپریل کے بعد سیاست دانوں ،انتخابی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے جلسے، جلوسوں پر بم حملوں اور فائرنگ میں ستر سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں اور ساڑھے تین سو زخمی ہوئے ہیں۔کراچی ، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بالخصوص کم وبیش روزانہ ہی تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور ان حملوں کے پیش نظر حکومت کی درخواست پر چاروں صوبوں کے حساس علاقوں میں انتخابات کے موقع پر مسلح افواج کے ستر ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں