.

کرم ایجنسی میں جے یوآئی کے جلسے میں بم دھماکا،18 افراد جاں بحق

قومی اسمبلی کے دوامیدوار زخمی،طالبان نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے مختلف علاقوں میں انتخابی امیدواروں اور ان کی ریلیوں پر دہشت گردوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور سوموار کو وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں مذہبی سیاسی جماعت،جمعیت العلماء اسلام (جے یو آئی) کے انتخابی جلسے میں بم دھماکے میں اٹھارہ افراد جاں بحق اور کم سے کم ستر زخمی ہوگئے ہیں۔

کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ ریاض مسعود خاں نے بتایا ہے کہ سیواک کے علاقے میں واقع ایک مدرسے میں جے یوآئی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 38 سے امیدوار منیر خان اورکزئی کا انتخابی جلسہ ہورہا تھا۔اس دوران وہاں نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا۔ان کے بہ قول بم جلسہ گاہ ہی میں کہیں چھپایا گیا تھا اور اس کو ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا ہے۔اس وقت منیر اورکزئی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے۔

کرم ایجنسی کے اسسٹینٹ پولیٹیکل ایجنٹ محمد فاضل نے بم دھماکے میں پندرہ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔بم دھماکے میں منیر اورکزئی کے علاوہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 37 سے جے یو آئی کے امیدوار عین الدین شاکر سمیت ستر افراد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم دونوں انتخابی امیدواروں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

دھماکے کے فوری بعد امدادی کارکنان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور انھوں نے زخمیوں کو پارا چنار اور دوسرے نزدیکی اسپتالوں میں پہنچانا شروع کردیا۔سکیورٹی فورسز نے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا ہے۔پاکستان کے نگران وزیراعظم میرہزار خان کھوسو نے کرم ایجنسی میں انتخابی امیدوار پر بم حملے کی مذمت کی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ حملے میں منیراورکزئی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی کیونکہ وہ گذشتہ پانچ سال کے دوران پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی اتحادی حکومت میں شامل رہے تھے اور ان کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے تھے۔

واضح رہے کہ حاجی منیرخاں اورکزئی اسی حلقہ سے اس سے پہلے دومرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔وہ اس حلقہ سے دونوں مرتبہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے۔گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل وفاقی حکومت نے پہلی مرتبہ فاٹا میں سیاسی جماعتوں کو بھی کام کرنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور حاجی منیراورکزئی جے یوآئی کے ٹکٹ پر عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

طالبان نے جے یوآئی کو اپنے حملوں میں نشانہ نہ بنانے کا اعلان کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود اس جماعت کے امیدواروں پر بھی ان کے حملے جاری ہیں۔طالبان جنگجوؤں نے پاکستان پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پر خاص طور پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں 11 اپریل کے بعد سیاست دانوں ،انتخابی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے جلسے، جلوسوں پر بم حملوں اور فائرنگ میں ستاسی افراد مارے جا چکے ہیں اور چارسو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ کراچی ، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کم وبیش روزانہ ہی انتخابی دفاتر اور جلسے جلوسوں میں بم دھماکے ہو رہے ہیں۔